صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 427 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 427

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۲۷ ۹۳ - كتاب الأحكام تقاضے کے مطابق علم کیا جائے گا، خواہ سابقہ حکم کو منسوخ ہی کرنا پڑے۔ ( فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۲۱۳) معنونہ حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ ابن بطال لکھتے ہیں کہ آنحضور صلی الم نے ابوسفیان کی عدم موجودگی میں اُس) کے خلاف فیصلہ (اس پر اہل و عیال کے اخراجات کا پورا کرنا) فرض ہونے کی وجہ سے اپنے علم کی بناء پر کیا ہے۔ نیز یہ کہ اس کے متعلق حقیقی علم رکھنے کی وجہ سے آپ کو اپنے اس فیصلہ کے درست ہونے پر یقین تھا اور (اس بارہ میں گواہی کی ایسی حیثیت نہیں تھی کیونکہ وہ تو جھوٹی اور وہمی بھی ہو سکتی تھی۔ (شرح صحیح البخاری لابن بطال، کتاب الاحكام ، باب من رأى للقاضي أن يحكم بعلمه، جزء ۸ صفحه ۲۲۷) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عدل کے قیام کے لئے اسلام ایک اور زریں ہدایت بھی دیتا ہے اور وہ یہ کہ اس کے حاکم کو ایک ایسے معاملہ میں جو ایک سے زیادہ فریق کے ساتھ تعلق رکھتا ہے صرف ایک فریق کی بات سن کر رائے قائم نہیں کرنی چاہئے جب تک کہ سارے متعلقہ فریقین کی بات نہ سن لی جائے۔ چنانچہ ہمارے مقدس آقا آنحضرت صلی اعلام فرماتے ہیں: إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ، فَلَا تَقْضِ لِلأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الآخَرِ، فَسَوْفَ تَدْرِي كَيْفَ تَقْضِي - (سنن الترمذي، أبواب الأحكام ، باب ما جاء فى القاضى لا يقضى بين الخصمين حتى يسمع كلامهما) یعنی آپ نے حضرت علی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جب تمہارے پاس دو آدمی جھگڑا کرتے ہوئے پہنچیں تو ایک آدمی کی بات سن کر رائے قائم کرنے اور فیصلہ کرنے کی طرف جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تم دوسرے شخص کی بھی بات نہ سن لو۔ اگر تم اس اصول پر عمل کرو گے تو تمہیں سچے فیصلوں کی طرف ہدایت حاصل ہو گی۔ گویا عدل کے طریق سے ہٹنے کا یہ بھی ایک امکانی رخنہ تھا جو آنحضرت صلی الیم کے مبارک ہاتھوں نے بند کر دیا۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مضامین بشیر جلد دوم صفحه ۲۵۷،۲۵۶) ” قاضی کا حق ہے کہ وہ فریقین کی باتیں سننے کے بعد کہہ دے کہ فلاں کا حق ہے اور فلاں کا نہیں۔ مگر اُس کو کون قاضی کہے گا جو یک طرفہ فیصلہ کر دے یک طرفہ فیصلہ نہایت ہی ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے اور اگر اس قسم کے فیصلوں کے نتیجہ میں بعض لوگوں کے دلوں میں شکوہ پیدا ہو تو یہ بالکل جائز اور درست ہو گا۔“ (خطابات شوری، اختتامی تقریر مجلس مشاورت ۱۹۴۱، جلد دوم صفحه ۵۴۹، ۵۵۰)