صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 425 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 425

صحیح البخاری جلد ۱۶ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ۴۲۵ ۹۳ - كتاب الأحكام صرف زبان سے اسلام اسلام کہنے سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ سچے دل سے انسان اس پر کار بند نہ ہو جاوے۔اکثر لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں جن کی نسبت قرآن شریف میں لکھا ہے : وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِعُونَ (البقرة :۱۵) یعنی جب وہ مسلمانوں کے پاس جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جب وہ دوسروں کے پاس جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور یہ وہ لوگ ہوتے جن کو قرآن شریف میں منافق کہا گیا ہے۔اس لئے جب تک کوئی شخص پورے طور پر قرآن مجید پر عمل نہیں کرتا تب تک وہ پورا پورا اسلام میں بھی داخل نہیں پر ہوتا۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحه ۳۷۹،۳۷۸) نیز فرمایا: یاد رکھو منافق وہی نہیں ہے جو ایفائے عہد نہیں کرتا یا زبان سے اخلاص ظاہر کرتا ہے مگر دل میں اس کے کفر ہے بلکہ وہ بھی منافق ہے جس کی فطرت میں دو رنگی ہے اگر چہ وہ اس کے اختیار میں نہ ہو۔صحابہ کرام کو اس دورنگی کا بہت خطرہ رہتا تھا۔ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ رو رہے تھے تو حضرت ابو بکڑ نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ کہا کہ اس لیے روتا ہوں کہ مجھ میں نفاق کے آثار معلوم ہوتے ہیں۔جب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہو تا ہوں تو اُس وقت دل نرم اور اس کی حالت بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے مگر جب اُن سے جُدا ہوتا ہوں تو وہ حالت نہیں رہتی۔ابو بکر نے فرمایا کہ یہ حالت تو میری بھی ہے۔پھر دونو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کل ماجر ابیان کیا۔آپ نے فرمایا کہ تم منافق نہیں ہو۔انسان کے دل میں قبض اور بسط ہوا کرتی ہے۔جو حالت تمہاری میرے پاس ہوتی ہے اگر وہ ہمیشہ رہے تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔تو اب دیکھو کہ صحابہ کر ام اس نفاق اور دور رنگی سے کس قدر ڈرتے تھے۔جب انسان حجرات اور دلیری سے زبان کھولتا ہے تو وہ بھی منافق ہوتا ہے، دین کی ہتک ہوتی سنے اور وہاں کی مجلس نہ چھوڑے یا ان کو جواب نہ دے تب بھی منافق ہوتا ہے، اگر مومن کی سی غیرت اور استقامت نہ ہو تب بھی منافق ہوتا ہے۔جب تک انسان ہر حال میں خدا کو یاد نہ کرے تب نفاق سے خالی نہ ہو گا اور یہ حالت تم کو بذریعہ دعا حاصل ہوگی۔ہمیشہ دعا