صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 21
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۱ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔شروع ہوئے۔عباسی دور میں عکرمہ نے ایک نیک اور خداترس عالم کے طور پر بڑی شہرت اور تعظیم حاصل کر لی تھی اور یہ بات واضح ہے کہ اس شہرت کا باعث حضرت علی کی مخالفت اور عباسیوں کی حمایت تھا جو سیاست کی وجہ سے ہر اُس شخص اور چیز کی مخالفت کرتے تھے جسکا تعلق اولاد علی سے ہو۔عمومی طور پر دیکھا گیا ہے که قتل مرتد کی روایات نے دراصل بصرہ کوفہ اور یمن میں رونما ہونے والے واقعات سے جنم لیا ہے کیونکہ اہل حجاز یعنی مکہ و مدینہ والے اس روایت سے بالکل ہے لا علم نظر آتے ہیں۔پھر اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ عکرمہ کی اس روایت کے راوی عراقی ہیں اور اس ضمن میں قارئین کو امام طاؤس بن کسان کا یہ قول نہیں بھولنا چاہیئے کہ "اگر کوئی عراقی تجھے سو حدیثیں بتائے تو ان میں سے ۹۹ کو تو بالکل پھینک دو اور باقی کے بارہ میں بھی شک ہی کرو۔“ جہاں تک عکرمہ کے خارجی، غیر ثقہ اور کذاب ہونے کا تعلق ہے تو اس ضمن میں كتب الرجال کی بڑی بڑی تالیفات سے درج ذیل شواہد آپ کے سامنے پیش ہیں: (1) الذہبی کہتے ہیں: ہمیں الصلت ابو شعیب نے بتایا کہ میں نے محمد بن سیرین سے عکرمہ کے بارہ میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس بات سے کوئی تکلیف نہیں کہ وہ اہل جنت میں سے ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ بہت ہی زیادہ جھوٹ بولنے والا ہے۔“ الذہبی مزید کہتے ہیں: یعقوب بن الحضرمی اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا ہے کہ ایک بار عکرمہ مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ اس مسجد میں موجود سب لوگ کافر ہیں۔عکرمہ اباضیہ فرقہ کے خیالات رکھتا تھا۔“ الذہبی مزید فرماتے ہیں: ابن المسیب نے اپنے غلام بر د سے کہا کہ میری طرف منسوب کر کے جھوٹی روایات بیان نہ کرنا جیسے عکرمہ، ابن عباس کی طرف جھوٹی روایات منسوب کرتا ہے۔“ (میزان الاعتدال۔۔، عکرمۃ مولی ابن عباس )