صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 22
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۲ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔(ب)۔ایک اور محقق لکھتے ہیں: عبد اللہ بن الحارث کہتے ہیں کہ میں علی بن عبد اللہ بن عباس کے ہاں گیا تو دیکھا کہ باب الحش کے سامنے عکرمہ پابہ زنجیر پڑا ہے۔میں نے علی کو کہا: کیا تمہیں خوف خدا نہیں؟ علی کہنے لگے: یہ خبیث (عکرمہ) میرے والد صاحب کے نام پر جھوٹی روایات بیان کرتا پھرتا ہے۔“ نیز لکھتے ہیں: وہیب روایت کرتے ہیں کہ میں بیچی بن سعید انصاری اور ایوب کے پاس تھا کہ انہوں نے عکرمہ کا ذکر کیا۔اس پر یحی بن سعید نے کہا کہ عکرمہ کذاب تھا۔“ ( الضعفاء الكبير۔۔۔، دار الكتب العلمية، بيروت طبع اول ۱۹۸۴ء، الجزء الثالث، صفحہ ۳۷۴،۳۷۳) (ج)۔حضرت ابن حجر العسقلانی لکھتے ہیں: یحییٰ بن معین نے کہا: امام مالک بن انس نے عکرمہ سے صرف اس وجہ سے روایات بیان نہیں کی ہیں کہ وہ صفر یہ فرقے کے خیالات رکھتا تھا۔* عطاء کہتے ہیں کہ وہ (عکرمہ) اباضیہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا۔* الجوز جانی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد سے پوچھا کہ کیا عکرمہ اباضی کے تھا؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ وہ صفری - تھا۔* مصعب الزبیری کے نزدیک عکرمہ خارجی خیالات کا حامل تھا۔* ابراہیم بن مندز نے معن بن عیسی اور دوسرے لوگوں سے روایت کی ہے کہ امام مالک عکرمہ کو ثقہ خیال نہ کرتے تھے اور حکم دیتے تھے کہ اس کی بیان کردہ روایات قبول نہ کی جائیں۔میں نے اہل مدینہ میں سے بعض کو یہ کہتے سنا ہے کہ عکرمہ اور عزہ نامی لڑکی کے عاشق کشیر کی میتیں ایک ہی دن میں مسجد کے دروازے کے سامنے لائی گئیں۔لوگوں نے کثیر کا جنازہ تو پڑھ لیا مگر عکرمہ کا جنازہ بہت کم لوگوں نے پڑھا۔احمد سے بھی اس مفہوم کی روایت بیان ہوئی ہے۔یہ خارجیوں کے دو فرقے تھے۔تاریخ افکار اسلامی، صفحه ۲۸۳ از ملک سیف الرحمن صاحب، نظارت اشاعت ربوہ)