صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 20 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 20

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔سے نہیں لگایا جاتا بلکہ بعض اور پیمانے بھی ہیں اس کی صحت جانچنے کے۔ان میں ایک اہم معیار یہ ہے کہ روایوں کی شخصیت اور ان کے تسلسل کے بارہ میں گہری چھان بین کی جائے۔بڑے بڑے علماء کرام جنہوں نے روایات کی صحت کے بارہ میں تحقیقات کے لئے اپنی زندگیاں صرف کر دیں، انہوں نے عکرمہ کی اس روایت کے بارہ میں فیصلہ دیا ہے کہ یہ روایت ”غریب“ اور ”احاد “ روایات میں آتی ہے یعنی اس کا راوی صرف ایک عکرمہ ہی ہے۔اور مولانا عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ کی رائے ہے کہ چونکہ امام بخاری نے عکرمہ سے روایت کی ہے اس لئے دوسرے محدثین نے بھی اس کی روایت قبول کر لی بغیر اس کے کہ وہ خود اس کے بارہ میں تحقیق کرتے۔“ (الرفع والتکمیل فی جرح والتعدیل، صفحہ ۷، طبع قدیم، لکھنو) یہ تو ممکن ہے کہ ایک ہی راوی سے مروی روایت صحیح اور معتبر حدیث ہو مگر وہ روایت ایسی حدیث صحیح کے پائے کو نہیں پہنچ سکتی جو کئی راویوں سے مروی ہو اس لئے ایسی احاد روایات پر ایسے امور کے بارہ میں بناء نہیں کی جاسکتی جو حقوق و ذمہ داریوں اور واجبات اور سزاؤں سے تعلق رکھتے ہوں خصوصاً حدود کے مسائل کے بارہ میں۔یعنی وہ سزائیں جن کو خود قرآن نے مقرر کیا ہے۔لہذا ایسے نازک اور حساس مسئلہ کے بارہ میں ایسی حدیث احاد پر بناء نہیں کی جاسکتی خواہ وہ بعض علماء کے نزدیک صحیح ہی کیوں نہ ہو۔پھر ہمیں راوی عکرمہ اور اس کی شہرت کے بارہ میں مزید چھان بین کرناضروری ہے۔جب اس روایت کو اس معیار سے پر کھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اسکار اوی عکرمہ خارجی اور حضرت علی کا دشمن تھا۔چنانچہ رجال حدیث کی بڑی اور اہم کتب میں اس کے بارہ میں لکھا ہے کہ یہ ایسا کمینہ اور خبیث شخص تھا کہ مسلمانوں نے اس کا جنازہ تک نہیں پڑھا۔اسی وجہ سے ایسے علماء حدیث نے جن کو روایات کی صحت جانچنے کے بارہ میں ید طولیٰ حاصل تھا یہ فیصلہ دیا ہے کہ اس روایت کی کوئی قیمت نہیں کیونکہ اس کا راوی زندیق اور خارجی تھا اور حضرت علی سے دشمنوں کا حامی تھا خصوصاً اُن ایام میں جب حضرت علی اور حضرت ابن عباس کے درمیان اختلافات