صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 19 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 19

صحيح البخاری جلد ۱۶ ١٩ ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ فیصلہ کسی حدیث میں مذکور ہے کہ محض ارتداد کے نتیجہ میں کسی کو قتل کر دیا جائے۔ اس لیے معاذ کے اس قول سے یہ استنباط کر نا زیادہ قرین قیاس ہے کہ یہ ان کا اپنا استدلال تھا۔ اس کی حیثیت ان کی ذاتی رائے کی ہے نہ کہ قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ پھر اس واقعہ کے ساتھ کوئی تفصیل بیان نہیں ہوئی کہ یہودی کیوں لایا گیا ؟ اس نے کیا حرکت کی تھی؟ ہر بات مبہم ہے اور امکانات و احتمالات موجود ہیں۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ کسی اور شرارت میں پکڑا گیا ہو اور اس بناء پر وہاں لایا گیا ہو۔ ہو سکتا ہے اُس نے اسلام کے خلاف محاربت کی ہو۔ چونکہ یہ سارے واقعات مبہم ہیں اس لیے اس مبہم حدیث پر جس میں ایک صحابی کا صرف استنباط ہے ، بناء کرتے ہوئے اتنے اہم مسئلہ میں قرآن کی واضح آیات کے منافی فیصلہ کرنا ظلم ہے۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جہاں قرآن کریم کی نص صریح موجود ہو اُس کے خلاف بظاہر مستند حدیث بھی مل جائے تو تقویٰ کا تقاضا ہے کہ اس ظاہری طور پر مستند حدیث کو رڈ کر دیا جائے جو کھلم کھلا قرآن کریم کی نص صریح سے ٹکراتی ہوئی معلوم ہوتی ہو۔ اس حدیث کی صرف یہی حیثیت نہیں بلکہ دوسری حدیثیں واضح طور پر اس مضمون کی نفی کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ پھر یہ بھی ذکر نہیں کہ اس واقعہ کی اطلاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کی گئی یا نہیں۔ اگر کی گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر کیا رد عمل تھا؟ سو قرآن کریم کی آیات، سنت نبوی، تاریخ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتد کی موت تک مسلسل عمل کہ اس کے قتل کا حکم نہیں دیتے، یہ سب کچھ ثابت کرتا ہے کہ اتنے واضح دلائل کے مقابل پر اس قسم کے کمزور استدلال کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے اور اتنے بڑے اہم عقیدہ کی اس پر بنیاد نہیں ڈالی جاسکتی۔“ روایت کی حقیقت: (اسلام میں ارتداد کی سزا صفحہ ۶۹، ۷۰، مصنفہ حضرت خلیفة المسیح الرابع ) حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” یہ بظاہر سب سے مضبوط استدلال رکھنے والی حدیث ہے جو صحاح ستہ میں سے بخاری، ترمذی، ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں آئی ہے۔ اس حد تک اس کی صحت ہے مگر کسی روایت کی صحت کا اندازہ صرف اس کے صحاح ستہ میں مذکور ہونے