صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 415
صحیح البخاری جلد ۱۶ لدان ۹۳ - كتاب الأحكام واپس سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے علی بن حسین حُسَيْنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس أَتَتْهُ صَفِيَّةٌ بِنْتُ حُيَةٍ فَلَمَّا رَجَعَتِ حضرت صفیہ بنت حبي آئیں۔ جب وہ انْطَلَقَ مَعَهَا فَمَرَّ بِهِ رَجُلانِ مِنَ الْأَنْصَارِ جانے لگیں تو آپ بھی ان کے ساتھ چل پڑے۔ فَدَعَاهُمَا فَقَالَ إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةٌ قَالَا اتنے میں دو انصاری شخص آپ کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان کو بلایا اور فرمایا: یہ صفیہ سُبْحَانَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي ہیں۔ اُن دونوں نے کہا: سبحان اللہ۔ آپ نے مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ۔ رَوَاهُ فرمایا کہ شیطان ابن آدم میں خون کی طرح چکر شُعَيْبٌ وَابْنُ مُسَافِرٍ وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ لگاتا ہے ۔ شعیب اور این مسافر اور ابن ابی عقیق وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ اور اسحاق بن یحی نے بھی اس حدیث کو زہری عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ صَفِيَّةَ سے روایت کیا۔ زہری نے علی بن حسین سے، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اُنہوں نے حضرت صفیہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ ہے۔ علیہ وسلم سے روایت کی۔ أطرافه : ۲۰۳۵، ۲۰۳۸ ، ۲۰۳۹ ، ۳۱۰۱، ۳۲۸۱، ۶۲۱۹ تشريح : الشَّهَادَةُ تَكُونُ عِنْدَ الْحَاكِمِ فِي وَلَا يَتِهِ القَضَاءَ أَوْ قَبْلَ ذَلِكَ لِلْخَصْمِ : شارح بخاری علامہ مہلب کہتے ہیں کہ اس عنوان سے مراد یہ ہے کہ ایسی گواہی جو قاضی کے پاس اُس کے عہدہ قضاء کے دوران یا اس سے پہلے ہو ، اُس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اُس پر بناء کرتے ہوئے فیصلہ دے دے، بلکہ اُسے چاہیے کہ اپنے علاوہ کسی اور حاکم کے سامنے (بطور گواہ) گواہی دے۔ ابن بطال لکھتے ہیں کہ امام بخاری نے اس امر کے اظہار کے لیے (کہ قاضی کو خود فیصلہ نہیں دینا چاہیے) قاضی شریح کا قول درج کیا ہے (کہ جب اُن سے کسی شخص نے گواہی طلب کی تو انہوں نے اُسے مقدمہ امیر کے سامنے لے جانے کے لیے کہا تا کہ وہ اس کے لیے امیر کے سامنے بطور گواہ پیش ہو جائیں۔) اور حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کا بھی ایسا ہی قول (منقول) ہے کہ اس (قاضی) کی گواہی مسلمانوں میں سے ایک مرد کی گواہی کی طرح ہی ہے۔ پھر (امام بخاری نے) حضرت عمر کے اس قول سے استدلال کیا ہے کہ اُن کے پاس آیت رجم کے قرآن میں سے ہونے کی گواہی کا ہونا، اُن کے لیے یہ جائز نہیں ٹھہراتا کہ وہ اپنی اکیلی گواہی کی بنیاد پر اسے مصحف یعنی قرآن میں شامل کر دیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر کا یہ عمل بڑے حکام کی راہ میں رکاوٹ ہے کہ وہ جسے پسند کرتے ہوں اُس کے