صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 416 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 416

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹۳ - كتاب الأحكام متعلق (خود ہی) دعویٰ کر کے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سچ پر ہے، فیصلہ سنادیں۔پھر (مندرجہ بالا حوالوں کے مقابل) امام بخاری نے دوسری صورت کی وضاحت میں کہ قاضی اپنے علم پر بناء کر کے فیصلہ دے سکتا ہے ماعز کے واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مزید گواہی کے بغیر اس کے اقرار پر ہی اسے سزا دینے کا حکم صادر فرمایا تھا اور اسی طرح حضرت ابو قتادہ کا واقعہ بھی ہے کہ ایک شخص کے اقرار سے آنحضور علی ایم نے یہ جان کر کہ ابو قتادہ ہی اسے قتل کرنے والے ہیں، انہیں مالِ غنیمت دے دیا۔پس یہ بات قاضی کے اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ دینے کی دلیل ہے۔علامہ ابن بطال لکھتے ہیں کہ جیسے آیت رجم کے متعلق حضرت عمر کا اپنے علم کی بناء پر فیصلہ نہ کرنا تہمت کے خوف سے تھا، ایسے ہی حضرت صفیہ کے متعلق حدیث بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تہمتوں سے دور شخص تھے ، آپ مطمئن نہیں ہوئے جب تک کہ آپ نے یہ نہ کہہ دیا کہ یہ صفیہ ہے۔پس آپ کے سوا جو بھی ہے وہ تو ہر گز معصوم نہیں، اُسے تو تہمت کا خوف رکھنا زیادہ ضروری ہے۔اور آنحضور صلی الی یوم نے ایسا اس لیے کیا تھا تا کہ تہمت کے مواقع سے بچنے کے لیے یہ آپ کی امت کے لیے سنت بن جائے۔(شرح صحیح البخاري لابن بطال، جزء ۸ صفحه ۲۴۴ تا ۲۴۶) مکرم و محترم ملک سیف الرحمن صاحب فرماتے ہیں: حضرت ابو بکڑ نے ایک بار فرمایا: اگر میں کسی کو زنا کرتے ہوئے دیکھ لوں تو نہ اپنے اس علم کی بنا پر ان کو سزا دوں اور نہ کسی کو گواہ بنانے کے لیے بلاؤں۔آپ کا یہ فرمان پردہ پوشی کی مصلحت پر مبنی ہے اور اس بات پر کہ قاضی اپنے علم کی بنا پر کوئی فیصلہ نہیں دے سکتا اس کا فیصلہ گواہی پر مبنی ہونا چاہئے۔یہ بھی اصول استحسان کی ایک مثال ہے۔" تاریخ افکار اسلامی، صفحه ۹۵) قَالَ عُمَرُ : لَوْلَا أَن يَقُولُ النَّاسُ زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللهِ لَكَتَبَتُ آيَةَ الرجيم بيدى : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے بیان کیا کہ جب رجم کا حکم نازل ہوا تو میں رسول کریم صلی ال نیم کے پاس گیا اور آپ کو کہا کہ مجھے یہ حکم لکھ دیجئے لیکن رسول کریم ملی ایم نے آپ کے اس سوال کو پسند نہیں فرمایا۔اور آپ کو یہ حکم لکھ کر نہیں دیا۔اس پر حضرت عمر نے کہا: یارسول اللہ ! کیا آپ کا یہ خیال نہیں کہ جب شیخ یعنی بڑی عمر کا آدمی جو شادی شدہ نہ ہو زنا کرے تو اس کو کوڑے لگائے جائیں اور جب جوان زنا کرے اور وہ شادی شدہ ہو تو اُسے رجم کیا جائے۔اس روایت سے ثابت ہے کہ حضرت عمر کے نزدیک ایسی کوئی آیت اتری تھی اور اسی بنا پر انہوں نے رسول کریم ملی ا ولم سے درخواست کی کہ وہ یہ آیت آپ کو لکھ دیں مگر آپ نے اس کو پسند الله