صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 414
صحیح البخاری جلد ۱۶ ٩٣ - كتاب الأحكام وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِرَاقِ مَا سَمِعَ أَوْ برخلاف فیصلہ نہ کرے جبتک کہ دو گواہوں کو نہ رَآهُ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ قَضَى بِهِ وَمَا بلائے اور ان کو اس کے اقرار پر گواہ کرے۔اور كَانَ فِي غَيْرِهِ لَمْ يَقْضِ إِلَّا اہل عراق میں سے بعض نے کہا: مجلس قضاء میں جو بات سنے یا دیکھے تو اس کے مطابق فیصلہ کرے اور بِشَاهِدَيْنِ يُحْضِرَهُمَا إِفْرَارَهُ وَقَالَ مُجلس قضاء کے علاوہ کسی اور جگہ جو بات بھی ہو تو وہ آخَرُونَ مِنْهُمْ بَلْ يَقْضِي بِهِ لِأَنَّهُ دو گواہوں کو اس کے اقرار پر گواہ بنائے بغیر اس مُؤْتَمَنْ وَإِنَّهُ يُرَادُ مِنَ الشَّهَادَةِ مَعْرِفَةُ کے متعلق فیصلہ نہ کرے۔انہی لوگوں میں سے الْحَقِّ فَعِلْمُهُ أَكْثَرُ مِنَ الشَّهَادَةِ۔کچھ اوروں نے کہا: نہیں بلکہ اس کے مطابق فیصلہ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَقْضِي بِعِلْمِهِ فِي کرے کیونکہ اسے امین سمجھا گیا ہے اور شہادت الْأَمْوَالِ وَلَا يَقْضِي فِي غَيْرِهَا وَقَالَ سے بھی تو یہی مراد ہے کہ حق معلوم ہو جائے تو الْقَاسِمُ لَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يُقْضِيَ اس کا علم شہادت سے بڑھ کر ہے اور ان میں سے قَضَاءً بِعِلْمِهِ دُونَ عِلْمٍ غَيْرِهِ مَعَ أَنَّ بعض نے یہ کہا کہ اپنے علم کی بناء پر دیوانی مقدمات عِلْمَهُ أَكْثَرُ مِنْ شَهَادَةِ غَيْرِهِ وَلَكِنَّ میں تو فیصلہ کرے اور اُن کے سوا دوسرے مقدمات میں فیصلہ نہ کرے اور قاسم نے کہا: فِيهِ تَعَرُّضًا لِتُهَمَةِ نَفْسِهِ عِنْدَ حاکم کو نہیں چاہیئے کہ اپنے علم کی بنا پر کسی دوسرے علم پرکسی الْمُسْلِمِينَ وَإِيقَاعًا لَهُمْ فِي الظُّنُونِ، شخص کے علم کے بغیر کسی فیصلہ کو نافذ کرے باوجود وَقَدْ كَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس کے کہ اس کا علم دوسرے کی شہادت سے الظَّنَّ فَقَالَ إِنَّمَا هَذِهِ صَفِيَّةُ۔بڑھ کر ہے مگر اس کی وجہ سے مسلمانوں کے نزدیک اپنے آپ کو تہمت کا نشانہ بنانا اور اُن کو بدظنی میں ڈالنا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بد گمانی کو ناپسند فرمایا ہے اور آپ نے فرمایا کہ یہ صفیہ ہی ہے۔۷۱۷۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ : عبد العزیز بن عبد اللہ اویسی نے ہم سے عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔اُنہوں