صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 413
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۱۳ ۹۳ - كتاب الأحكام صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ میرے لئے گواہی دیتا ہو۔میں بیٹھ گیا۔پھر مجھے جُلَسَائِهِ سِلَاحُ هَذَا الْقَتِيلِ الَّذِي خیال آیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يَذْكُرُ عِنْدِي قَالَ فَأَرْضِهِ مِنْهُ قَالَ کے پاس اس کا ذکر کیا تو آپ کے ہم نشینوں میں أَبُو بَكْرٍ كَلَّا لَا يُعْطِهِ أُصَيْعَ مِنْ سے ایک شخص نے کہا: اس مقتول کے ہتھیار جس قُرَيْشٍ وَيَدَعَ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللَّهِ کا یہ ذکر کرتا ہے میرے پاس ہیں۔اُس نے کہا: آپ اس کو ان ہتھیاروں کی بجائے (کچھ دے يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَقَامَ کی راضی کر دیں تو حضرت ابو بکر نے کہا: ایسا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہرگز نہیں ہو گا کہ آپ قریش کے ایک چھوٹے فَأَذَاهُ إِلَيَّ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ خِرَافًا فَكَانَ بچے کو دے دیں اور اللہ کے شیروں میں سے أَوَّلَ مَالٍ تَأَلَّلْتُهُ۔قَالَ عَبْدُ اللهِ عَنِ ایک شیر کو چھوڑ دیں، جو اللہ اور اس کے رسول اللَّيْثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی طرف سے لڑتا ہو۔حضرت ابو قتادہ کہتے تھے: آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس نے وہ سامان مجھے دے دیا اور میں نے اس سے ایک باغ خریدا اور وہ پہلی جائیداد تھی جو میں نے پیدا کی۔عبد اللہ ( بن صالح) نے لیث سے روایت کرتے ہوئے (مجھ سے) یوں بیان کیا کہ نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ فَأَدَّاهُ إِلَيَّ۔علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور وہ سامان مجھے کو دلایا۔أطرافه : ۲۱۰۰، ٣١٤۲، ٤٣٢١، ٤٣٢٢۔وَقَالَ أَهْلُ الْحِجَازِ الْحَاكِمُ لَا اور اہل حجاز نے کہا: حاکم اپنے علم کی بنا پر فیصلہ نہ يَقْضِي بِعِلْمِهِ شَهِدَ بِذَلِكَ فِي وِلَايَتِهِ کرے خواہ اس معاملے کو وہ عہدہ قضاء کے زمانے قَبْلَهَا وَلَوْ أَقَرَّ خَصْمٌ عِنْدَهُ لِآخَرَ میں یا اس سے پہلے عینی شہادت کی بناء پر جانتا ہو بِحَقِّ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ فَإِنَّهُ لَا اور اگر مدعاعلیہ مجلس قضاء میں اس کے پاس يَقْضِي عَلَيْهِ فِي قَوْلِ بَعْضِهِمْ حَتَّى دوسرے شخص کے لئے کسی حق کا اقرار کرے يَدْعُوَ بِشَاهِدَيْنِ فَيُحْضِرَهُمَا إِقْرَارَهُ۔تو وہ بعض لوگوں کے قول کے مطابق اس کے عمدۃ القاری میں اس جگہ فأمر ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۴ صفحہ ۲۴۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔