صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 18
صحيح البخاری جلد ۱۶ IA ۸۸ کتاب استتابة المرتدين حکم ایک ہو جیسا کہ قرآن کریم میں کفارہ یمین کے تین روزوں کا ذکر آیا کہ اس میں عام قراءت مطلق ہے جس کے ساتھ کوئی قید نہیں لگی ہوئی کہ وہ روزے یکے بعد دیگرے مسلسل ہوں یا کہ درمیان میں وقفہ بھی آجانا جائز ہے مگر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی قراءت میں یکے بعد دیگرے مسلسل بغیر وقفہ کے ان روزوں کے رکھنے کا ذکر آیا ہے اس واسطے عام قراءت کو اس دوسری قراءت کے ساتھ جو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی ہے مقید کرنا ضروری سمجھا گیا ہے کیونکہ روزہ رکھنے کا یہ حکم ان دو متضاد صفتوں کے ساتھ متصف نہیں ہو سکتا کہ وہی تین روزے پے در پے بلا وقفہ بھی رکھے جائیں اور وقفہ کرنا بھی اس میں جائز ہو۔اب حامیان قتل مرتد اس مسلمہ اصول کو ان روایات پر چسپاں کر کے دیکھیں جو قتل مرتد کے بارے میں احادیث میں موجود ہیں اور بتائیں کہ اس اصول کی رو سے ہمیں کیا فیصلہ کرنا چاہیئے۔کیا ان روایات کو لینا چاہیئے جن میں کسی قید کا ذکر نہیں یا اُن روایات کی پیروی کرنی چاہیئے جن میں محاربہ کی شرط موجود ہے۔پس ان احادیث سے کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟ کیا یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہر ایک مرتد کے قتل کا حکم نہیں بلکہ صرف ایسے مرتد کا جو محارب بھی ہو۔“ د قتل مرتد اور اسلام، صفحه ۲۰۳ تا ۲۰۶)۔۔۔علامہ بدرالدین العینی لکھتے ہیں: حضرت علی نے جن زنادقہ کو جلو ایا تھا وہ عبد اللہ بن سبا یہودی کے پیرو تھے۔منافقانہ ایمان لائے۔وہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالتے تھے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۷۹) علامہ عینی کی یہ وضاحت بھی اس صورت میں قابل قبول ہو گی جب یہ ثابت ہو جائے کہ فی الواقعہ حضرت علی نے کوئی ایسا عمل کیا تھا۔خلاف واقعہ بات کی وضاحت اس کی صحت کا ثبوت نہیں بلکہ امکانی بحث اور دلیل ہے جو علامہ عینی نے دی ہے۔زیر باب روایت نمبر ۶۹۲۳ کے الفاظ قَالَ لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ الله وَرَسُولِهِ (ثَلَاثَ مَرَّاتٍ): حضرت معاذ نے کہا: میں نہیں بیٹھوں گا یہاں تک کہ اس کو قتل کیا جائے یہی اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے۔انہوں نے تین بار یہی کہا۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہاں ایک طرف معاذ کہہ رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کا یہی فیصلہ ہے مگر یہ فیصلہ کب ہو ا تھا، کیا الفاظ تھے اس کے، اس کا معاذ کوئی ذکر نہیں کرتے۔دوسری طرف اللہ کے کسی ایسے فیصلے کا کوئی ذکر قرآن کریم میں موجود نہیں اور نہ ہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی