صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 403 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 403

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۰۳ ۹۳ - كتاب الأحكام اسی طرح حضرت ابو بکر خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا یہ مشہور قول ہے۔جو خلیفہ بننے کے بعد انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں فرمایا کہ الضعیف فیکم قوى عندى حتى أريح عليه حقه۔۔۔والقوى فيكم ضعيف عندى حتى آخذ الحق منه - ( السيرة النبوية وأخبار الخلفاء لابن حبان استخلاف أبى بكر بن أبي قحافة الصديق رضي الله عنه، جزء ۲ صفحه ۴۲۴) یعنی تم میں سے کمزور آدمی میری نظروں میں قوی ہو گا ، جب تک کہ تک کہ میں اس کا وہ حق جو کسی اور نے اس سے چھینا ہوا ہو، اسے واپس نہ دلا دوں ، اور تم میں سے قوی شخص میرے نزدیک ضعیف ہو گا ، جب تک کہ میں اس سے وہ حق جو اس نے کسی اور سے چھینا ہوا ہو گا واپس نہ لے لوں۔۔۔۔یہ عدل کے وہ چار موٹے موٹے مثبت پہلو ہیں جن کی طرف قرآن شریف ہر حاکم کو توجہ دلا کر ہوشیار کرتا ہے۔یعنی (۱) کام کے ساتھ عدل(۲) حکومت اور پبلک کے درمیان عدل (۳) قوموں اور پارٹیوں کے درمیان عدل اور (۴) بالاآخر افراد کے درمیان عدل۔اور اسلام مسلمانوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ وہ ان چاروں قسموں کے عدلوں پر قائم ہوتے ہوئے حکومت کے فرائض سر انجام دیں۔( مضامین بشیر جلد دوم صفحہ ۲۵۱ تا ۲۵۴) باب ۱۷ : رِزْقُ الْحُكَّامِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا حاکموں اور کارکنوں کی روزی جو کسی جگہ پر مقرر ہوں وَكَانَ شُرَيْحٌ الْقَاضِي يَأْخُذُ عَلَى اور قاضی شریح قضاء کی اجرت لیا کرتے تھے اور الْقَضَاءِ أَجْرًا۔وَقَالَتْ عَائِشَةُ يَأْكُلُ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: وصی اپنی محنت کے الْوَصِيُّ بِقَدْرِ عُمَالَتِهِ۔وَأَكَلَ أَبُو اندازے کے مطابق کھانے پینے کا خرچ لے اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے بھی کھانے کا بَكْرٍ وَعُمَرُ۔خرچ لیا۔٧١٦٣: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۱۶۳: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ أَنَّ حُوَيْطِبَ حضرت سائب بن یزید بن اخت نمر نے مجھے خبر بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ دی که حویطب بن عبد العزیٰ نے انہیں بتایا کہ