صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 402 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 402

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۰۲ ۹۳ - كتاب الأحكام نے ترازو کے دونوں پلڑوں کو برابر نہیں رکھا اور کبھی اسے ایک طرف جھکا دیا اور کبھی دوسری طرف۔پس کامل عدل میں حکومت اور پبلک کے درمیان عدل کرنا بھی شامل ہے۔(سوم) عدل کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ مختلف قوموں کے درمیان عدل کیا جائے۔ظاہر ہے کہ ہر حکومت میں مختلف قومیں اور مختلف پارٹیاں بستی اور شہریت کے حقوق رکھتی ہیں۔اور اگر مذہب سب کا ایک بھی ہو پھر بھی مذہب کی اندرونی تقسیم کے لحاظ سے اور اسی طرح سیاسی اور نسلی تفریق کی بناء پر مختلف قومیں اور مختلف پارٹیاں ہو سکتی ہیں۔یہ سب پارٹیاں ملک میں شہریت کے حقوق رکھتی اور حکومت کی وفادار ہوتی ہیں مگر ہو سکتا ہے کہ کوئی حاکم اپنے ذاتی رجحانات یا تعلقات کی وجہ سے کسی ایک قوم یا ایک پارٹی کی طرف زیادہ جھک جائے اور دوسروں کے حقوق کا خیال نہ کرے۔اس لئے اسلام عدل کے لفظ میں قوموں اور پارٹیوں کے حقوق کی طرف بھی اشارہ فرماتا ہے اور مسلمان حاکموں کو ہوشیار کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم کسی ایک قوم یا ایک پارٹی کی طرف ناواجب طور پر جھک کر دوسری قوم یا دوسری پارٹی کے حقوق کو نقصان پہنچا دو۔(چہارم ) عدل کا چوتھا اور سب سے زیادہ معروف پہلو افراد کے درمیان عدل کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔سو اسلام حکم دیتا ہے کہ جہاں تک حقوق کا سوال ہے۔سب شہریوں کیساتھ بلا لحاظ بڑے اور چھوٹے اور بلا لحاظ کمزور اور طاقتور کے یکساں انصاف کا معاملہ کیا جائے اور ایسا نہ ہو کہ ایک بڑے شخص کی وجہ سے چھوٹے شخص کا نقصان ہو جائے یا ایک طاقتور شخص کا نقصان ہو جائے۔یا ایک طاقتور شخص کی لحاظ داری میں مزدور شخص کے حقوق نظر انداز کر دیے جائیں۔ہمارے مقدس آقا صلی ا ہم نے ایک دفعہ فرمایا کہ أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِم الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمِ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الحَد۔(صحیح مسلم، کتاب الحدود، باب قطع السارق الشريف وغيره) یعنی اے مسلمانو! تم سے پہلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کر دیا کہ اگر ان میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو وہ اُسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کوئی چھوٹا چوری کرتا تھا تو وہ اسے سزا دیتے تھے۔اور اس کے بعد آپ نے نہایت جلالی شان کے ساتھ فرمایا کہ خدا کی قسم اگر میری لڑکی فاطمہ بھی چوری کرے گی تو اس پر بھی شریعت کی مقرر کردہ سزا جاری کی جائے گی۔