صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 404 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 404

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام السَّعْدِي أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ حضرت عبد اللہ بن سعدی نے انہیں بتایا کہ وہ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَلَمْ حضرت عمرؓ کے پاس اُن کی خلافت کے زمانے میں أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِيَ مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ آئے تو حضرت عمر نے اُن سے فرمایا: کیا مجھے یہ أَعْمَالًا فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ نہیں بتایا گیا کہ تم خدمات عامہ میں بعض خدمتیں سر انجام دیتے ہو اور جب تمہیں تمہاری خدمت کا كَرِهْتَهَا؟ فَقُلْتُ بَلَى، فَقَالَ عُمَرُ مَا معاوضہ دیا جاتا ہے تم اس کو نا پسند کرتے ہو ؟ میں تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ؟ قُلْتُ إِنَّ لِي أَفْرَاسًا نے کہا: ہاں یہ صحیح ہے۔حضرت عمر نے فرمایا: تم وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ وَأُرِيدُ أَنْ تَكُونَ اس مفت کی خدمت سے کیا چاہتے ہو؟ میں نے عُمَالَتِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ قَالَ کہا: میرے کچھ گھوڑے اور غلام ہیں اور میں عُمَرُ لَا تَفْعَلْ فَإِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ اچھی حالت میں ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری الَّذِي أَرَدْتَ فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی یہ خدمت مسلمانوں کے لیے بطور ایک صدقہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ کے رہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: ایسانہ کرو کیونکہ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي حَتَّى میں نے بھی وہی بات چاہی تھی جو تم نے چاہی أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیا إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کرتے تھے اور میں کہتا آپ یہ ایسے شخص کو دے وَسَلَّمَ خُذْهُ فَتَمَوَّلُهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ فَمَا دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو آخر آپ نے ایک دفعہ مجھے کچھ مال دیا تو میں نے کہا: آپ یہ ایسے شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے لو اور اس سے اور مال پیدا کرو اور اس کو صدقہ میں دو کیونکہ اس مال سے جو کچھ بھی تمہارے پاس ایسی حالت میں آئے کہ تم اس کی تاک میں نہ ہو اور نہ اس کو مانگنے والے ہو تم اس کو لے لو ورنہ پھر اپنے آپ کو اس کے پیچھے نہ لگاؤ۔جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَإِلَّا فَلَا تُتَّبِعْهُ نَفْسَكَ۔أطرافه : ١٤٧٣، ٧١٦٤ -