صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 401 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 401

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۰۱ ۹۳ - كتاب الأحكام کا کوئی عہدہ ہو، اسے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کامل عدل سے کام لینا چاہئے۔میں نے عدل کے ساتھ کامل کا لفظ اس لئے زیادہ کیا ہے کہ عربی محاورہ کے مطابق جب العدل کا لفظ بغیر کسی قید یا حد بندی کے آئے تو اسکے معنے کامل اور وسیع عدل کے ہوتے ہیں اور ایسا لفظ عدل کے ان سارے پہلوؤں پر حاوی ہوتا ہے جو لغت اور زبان کے محاورہ کے مطابق امکانی طور پر سمجھے جاسکتے ہیں۔پس جب قرآن شریف یہ فرماتا ہے کہ ہر حاکم کا فرض ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں عدل سے کام لے تو اس میں ہر قسم کا کامل عدل سمجھا جائے گا۔اب ہر شخص جانتا ہے کہ عدل کئی قسم کا ہو سکتا ہے جن میں سے میں چار موٹی اور معروف قسمیں ذیل میں درج کرتا ہوں۔(اول) اپنے کام کے ساتھ عدل کرنا، یعنی اپنے فرض منصبی کو اس کے سارے حقوق کے ساتھ ادا کرنا اور مختصر طور پر یہ حقوق تین قسم کے ہیں۔(الف) فن کی واقفیت یعنی جو کام کسی کے سپرد کیا گیا ہے ، اس کے ضروری اصولوں اور ضروری تفاصیل سے واقفیت پیدا کرنا (ب) محنت یعنی اپنے کام کو انتہائی محنت اور جانفشانی کے ساتھ ادا کرنا اور جو امانت یعنی اپنے فرائض منصبی کو دیانتدارانہ اصول کے ماتحت سر انجام دیں، مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ عدل کے مفہوم کو صرف دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنے تک محدود سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ایک بہت وسیع لفظ ہے اور اس کا سب سے مقدم پہلو یہ ہے کہ اپنے کام کے ساتھ عدل کیا جائے یہ ایسا ہی محاورہ ہے جیسا کہ مثلاً ہم اردو میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے کام کا حق ادا کر دیا۔پس عدل کا سب سے ضروری پہلو یہ ہے کہ کام کے ساتھ عدل ہو جو شخص حکومت کا ایک عہدہ تو قبول کر لیتا ہے مگر اس کے فن سے واقفیت پیدا نہیں کرتا یا فن سے واقفیت تو پیدا کرتا ہے مگر محنت نہیں کرتا اور ستی میں اپنا وقت گزارتا ہے یا محنت بھی کرتا ہے مگر دیانتدارانہ رویہ نہیں رکھتا تو وہ قرآنی محاورہ کے مطابق ہر گز عدل پر قائم نہیں سمجھا جاسکتا۔( دوم ) عدل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ حکومت اور پبلک کے درمیان عدل کیا جائے یعنی حکومت کے لئے پبلک کا کوئی حق نہ مارا جائے اور پبلک کے لئے حکومت کے کسی حق پر دست درازی نہ کی جائے۔اسلام ہر طبقہ کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے جن میں حکومت بھی شامل ہے اور پبلک بھی۔پس جو حاکم حکومت کو خوش کرنے کے لئے پبلک کا حق مارتا ہے یا پبلک کو خوش کرنے کے لئے حکومت کی غداری کرتا ہے ، وہ ہر گز ایک عادل حاکم نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ اس