صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 400 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 400

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۴۰۰ ۹۳ - كتاب الأحكام ہیں۔اور پھر اے وہ لوگو! جنہیں حکومت کی امانت سپر د ہو تمہیں ہمارا یہ کاموں میں عدل پر قائم رہو۔اور عدل کے رستہ سے کبھی ادھر ادھر نہ ہونا۔حکومت کے عہدوں کے متعلق یہ ایک نہایت زریں ہدایت ہے جو خدا کا کلام ہمیں اس معاملہ میں دیتا ہے۔اور جیسا کہ قرآن شریف کا طریق ہے وہ الفاظ تو مختصر استعمال کرتا ہے مگر ان الفاظ کے پیچھے معانی کا ایک وسیع خزانہ مخفی ہوتا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس قرآنی آیت میں ”امانت “ اور ”عدل“ کے مختصر سے الفاظ میں ایک ایسا وسیع مضمون بھر دیا گیا ہے کہ اگر اس معاملہ میں ان کے سوا کوئی اور ہدایت نہ بھی ہو تو یہی دو مختصر الفاظ کسی حاکم کی کامیابی اور اس کی سرخروئی کے لئے کافی وشافی ہیں۔سب سے پہلا سبق ”امانت“ کے لفظ میں ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ امانت اس چیز کو کہتے ہیں جو ہماری ملکیت نہیں ہوتی، بلکہ کسی دوسرے شخص کی طرف سے ہمیں عارضی طور پر حفاظت کے لئے ملتی ہے۔پس پہلی ہدایت قرآن شریف کی یہ ہے کہ جب کسی شخص کو حکومت کا کوئی عہدہ سپر دہو تو وہ اسے ایک مقدس امانت سمجھ کر ادا کرے اور امانت کا مفہوم اپنے اندر دو پہلور کھتا ہے ایک یہ کہ وہ امانت ہے خدا کی طرف سے جو دنیا کا آخری حکمران ہے اور دوسرے یہ کہ وہ امانت ہے لوگوں کی طرف سے جو ایک شخص کو اپنا نمائندہ بنا کر حکومت کے عہدہ پر فائز کرتے یا کرواتے ہیں۔پس ہر مسلمان حاکم کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنے دل میں اس احساس کو قائم رکھے کہ میرا عہدہ میرے پاس ایک دوہری امانت کے طور پر ہے یعنی اول وہ خدا کی امانت ہے کیونکہ میں نے بالآخر خدا کے سامنے اپنے سارے کاموں کا جواب دینا ہے۔اور پھر وہ لوگوں کی امانت ہے جن کا میں نمائندہ ہوں۔اور جن کے سامنے میں دنیا میں جواب وہ ہوں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہر عہدہ دار اس امانت والے احساس کو اپنے دل میں قائم کر لے اور پھر قائم کرنے کے بعد اسے زندہ رکھے تو ہمارے قومی کاموں میں اتنا بھاری تغیر پیدا ہو سکتا ہے جو موجودہ حالت میں ہم خیال میں بھی نہیں لا سکتے۔دیکھو یہ کتنا چھوٹا سا لفظ ہے جو قرآن شریف نے استعمال کیا ہے مگر حکمت و معرفت سے کتنا لبریز ہے کہ گویا بجلی کا ایک بٹن دبانے سے سارا گھر آنِ واحد میں روشن ہو جاتا ہے کاش لوگ اس نکتہ کو سمجھیں۔دوسری بات اس قرآنی آیت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس شخص کے سپر د حکومت