صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 399
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۹۹ ۹۳ - كتاب الأحكام شهِدِينَ فَفَهَمُنَهَا سُلَيْمَنَ ۚ وَكُلًّا بصری نے) یہ آیت بھی پڑھی۔یعنی داؤ اور أتَيْنَا حُكَمًا وَ عِلْمًا (الأنبياء: ۷۹، ۸۰) سلیمان کو یاد کر جب وہ ایک کھیتی کے متعلق فیصلہ فَحَمِدَ سُلَيْمَانَ وَلَمْ يَلُمْ دَاوُدَ وَلَوْلَا کر رہے تھے جبکہ لوگوں کی بکریاں اس میں چہ مَا ذَكَرَ اللَّهُ مِنْ أَمْرِ هَذَيْنِ لَرَأَيْتُ أَنَّ گئیں تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کو دیکھ رہے تھے تو الْقُضَاةَ هَلَكُوا فَإِنَّهُ أَثْنَى عَلَى هَذَا ہم نے سلیمان کو وہ بات سمجھا دی اور ہر ایک کو ہم نے فیصلہ کرنے کی سمجھ اور علم دیا تھا۔غرض سلیمان کی تعریف کی اور داؤد کو ملامت نہیں کی اور اللہ نے جو ان دونوں کے واقعہ کا ذکر کر دیا ہے اگر یہ نہ ہو تا تو میں سمجھتا ہوں کہ قاضی ہلاک ہو جاتے کیونکہ اس نے ان کی بوجہ ان کے حقیقت معلوم کر لینے کے تعریف کی اور ان کو بوجہ ان کی اجتہادی غلطی کے معذور قرار دیا۔بِعِلْمِهِ وَعَذَرَ هَذَا بِاجْتِهَادِهِ۔وَقَالَ مُزَاحِمُ بْنُ زُفَرَ قَالَ لَنَا عُمَرُ اور مزاحم بن زفر کہتے تھے۔عمر بن عبد العزیز بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ خَمْسٌ إِذَا أَخْطَأَ نے ہم سے کہا: پانچ باتیں ہیں اگر قاضی ان میں الْقَاضِيَ مِنْهُنَّ خُطةً كَانَتْ فِیهِ سے ایک بات کا بھی خیال نہ رکھے تو اس میں وَصْمَةٌ أَنْ يَكُونَ فَهِما حَلِيمًا عَفِيفًا وحبہ ہو گا یہ کہ وہ سمجھدار بردبار پرہیز گار ہو کسی صَلِيبًا عَالِمًا سَئُولًا عَنِ الْعِلْمِ۔کے اثر کو قبول کرنے والا نہ ہو عالم ہو معلومات کے متعلق بہت دریافت کرنے والا ہو۔تشريح : مَتَى يَسْتَوْجِبُ الرَّجُلُ القَضَاءَ، وَ قَالَ الحَسَنُ: أَخَذَ اللهُ عَلَى الحُكَامِ۔۔۔آدمی کب قاضی بننے کا حق رکھتا ہے۔اور حسن (بصری) نے کہا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن شریف فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يَأمركم أن تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ( النساء:۵۹) یعنی اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ حکومت کے عہدوں کی امانتیں ان لوگوں کے سپرد کیا کرو جو اس کے اہل