صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 397 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 397

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۹۷ ۹۳ - كتاب الأحكام عَرَفْتَهَا فَاشْهَدْ وَإِلَّا تَعْرِفُهَا فَلَا اس عورت کے بر خلاف شہادت دینے کے متعلق کہ جو پس پردہ ہو کہا اگر تم اس کو پہچانتے ہو تو تَشْهَد۔شہادت دوور نہ مت شہادت دو۔٧١٦٢: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۷۱۶۲: محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔اُنہوں سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا۔وہ حضرت انس بن قَالَ لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مالک سے روایت کرتے تھے۔انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قَالُوا جب نبي صلى اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنا إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَختُومًا چاہا تو صحابہ نے کہا کہ وہ مہر شدہ خط کے سوا کوئی فَاتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خط نہیں پڑھتے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خَاتَمَا مِنْ فِضَّةٍ كَانِي أَنْظُرُ إِلَى چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔(حضرت انس کہتے وَبِيصِهِ وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ۔ہیں: گویا میں اس وقت بھی اس کی چمک دیکھ رہا ہوں اور اس کا کندہ یہ تھا محمد رسول اللہ۔أطرافه : (٦٥ ،۲۹۳۸ ۵۸۷۰، ۵۸۷۲، ۵۸۷۴، ۵۸۷۰، ۵۸۷۷ تشريح الـ ، الشَّهَادَةُ عَلَى الْخَطِ الْمَخْتُومِ : مہر کردہ خط پر شہادت دینا۔۔۔علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں: علامہ عینی آبیان کرتے ہیں کہ اس عنوان سے مراد یہ ہے کہ کیا کسی خط پر یہ گواہی دینا جائز ہے کہ یہ فلاں کا خط ہے۔اور امام بخاری کا ( اس بارے میں) مہر شدہ کے لفظ کی قید لگانا اس لیے ہے کہ اس سے خط کے جعلی ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔حاصل الکلام یہ ہے کہ خط پر گواہی کا جواز یا عدم جواز عمومی صورت میں نہیں ہے، کیونکہ مطلقاً منع کر دیا جائے تو حقوق ضائع ہو سکتے ہیں اور مطلقاً اس پر عمل بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اسے جعلی ہونے کے امکان سے محفوظ نہیں بناتا۔لہذا یہ بعض شرائط کے ساتھ ہی جائز ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۴ صفحہ ۲۳۶) علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ یہ عنوان باب اور اس میں مذکور آثار تین احکام پر مشتمل ہیں (۱) خط پر گواہی دینا۔(۲) ایک قاضی کا دوسرے قاضی کی طرف خط لکھنا۔(۳) خط کے مضمون کے اقرار پر گواہی دینا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری کی اس کاوش سے ان سب کا جواز ہی ظاہر ہوتا ہے۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۱۷۹)