صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 396 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 396

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۹۶ ۹۳ - كتاب الأحكام الْأَسْلَمِيَّ وَعَامِرَ بْنَ عَبْدَةَ وَعَبَّادَ بْنَ قاضی اور ایاس بن معاویہ اور حسن (بصری) اور مَنْصُورٍ يُجِيزُونَ كُتُبَ الْقُضَاةِ بِغَيْرِ ثمامہ بن عبد اللہ بن انس اور بلال بن ابی بردہ اور مَحْضَرٍ مِنَ الشُّهُودِ فَإِنْ قَالَ الَّذِي عبد اللہ بن بریدہ اسلمی اور عامر بن عبدہ اور عباد جِيءَ عَلَيْهِ بِالْكِتَابِ إِنَّهُ زُورٌ قِيلَ لَهُ بن منصور کو دیکھا وہ قاضیوں کے پروانوں کو بغیر اذْهَبْ فَالْتَمِسِ الْمَخْرَجَ مِنْ ذَلِكَ، گواہی کی شہادت لئے درست قرار دیا کرتے وَأَوَّلُ مَنْ سَأَلَ عَلَى كِتَابِ الْقَاضِي تھے۔ اگر وہ شخص جس کے بر خلاف وہ پروانہ لایا الْبَيِّنَةَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى وَسَوَّارُ بْنُ عَبْدِ گیا ہو یہ کہے کہ وہ جعلی ہے تو اسے کہا جائے جاؤ تم اس سے نکلنے کی راہ ڈھونڈو۔ اور پہلے جنہوں نے اللَّهِ۔ وَقَالَ لَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحْرِزِ جِنْتُ بِكِتَابٍ مِنْ قاضی کے پروانے پر ثبوت مانگاوہ ابن ابی لیلیٰ اور سوار بن عبد اللہ تھے۔ اور ہم سے ابو نعیم نے کہا: مُوسَى بْنِ أَنَسٍ قَاضِي الْبَصْرَةِ عبید اللہ بن محرز نے ہم سے بیان کیا کہ میں وَأَقَمْتُ عِنْدَهُ الْبَيِّنَةَ أَنَّ لِي عِنْدَ موسیٰ بن انس سے جو بصرہ کے قاضی تھے پروانہ فُلَانٍ كَذَا وَكَذَا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ لایا اور میں نے اُن کے پاس ثبوت پیش کر دیا تھا وَجِئْتُ بِهِ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کہ فلاں کے ذمے میرا اتنا حق ہے اور وہ کوفہ میں فَأَجَازَهُ۔ وَكَرِهَ الْحَسَنُ وَأَبُو قِلَابَةَ أَنْ ہے اور میں اس خط کو قاسم بن عبدالرحمن کے يَشْهَدَ عَلَى وَصِيَّةٍ حَتَّى يَعْلَمَ مَا پاس لایا تو انہوں نے اس کو درست قرار دیا۔ اور فِيهَا لِأَنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ فِيهَا جَوْرًا حسن بصری) اور ابوقلابہ نے وصیت پر اس وَقَدْ كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وقت تک شہادت دینا نا پسند کیا جب تک کہ جان وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ خَيْبَرَ إِمَّا أَنْ تَدُوا نہ لے کہ اس : اس میں کیا مضمون ہے کیونکہ وہ نہیں صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ تُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ جانتا کہ شاید اس میں ظلم ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَقَالَ الزُّهْرِيُّ فِي الشَّهَادَةِ عَلَى نے خیبر والوں کو خط لکھا یا تم اپنے ساتھی کی دیت الْمَرْأَةِ مِنْ وَرَاءِ } الستْرِ إِنْ دو یا پھر تم جنگ کے لئے تیار رہو۔ اور زہری نے فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں یہاں لفظ ”وراء ہیں ( فتح الباری جزء ۳ ۱ حاشیہ صفحہ ۱۷۴) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔