صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 395
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۹۵ بَاب ١٥ : الشَّهَادَةُ عَلَى الْخَطِ الْمَخْتُومِ مہر کردہ خط پر شہادت دینا ۹۳ - كتاب الأحكام وَمَا يَجُوزُ مِنْ ذَلِكَ وَمَا يَضِيقُ عَلَيْهِ، اور اس قسم کی شہادت سے جو کچھ (گواہوں کے وَكِتَابُ الْحَاكِمِ إِلَى عُمَّالِهِ وَالْقَاضِي لئے جائز ہے۔اور جس میں ان کے لئے کوئی إِلَى الْقَاضِي۔وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ گنجائش نہیں اور حاکم کا اپنے کارکنوں کی طرف كِتَابُ الْحَاكِمِ جَائِزٌ إِلَّا فِي پروانہ لکھنا اور قاضی کا قاضی کی طرف پروانہ الْحُدُودِ ثُمَّ قَالَ إِنْ كَانَ الْقَتْلُ خَطَأَ لکھنا اور بعض لوگوں نے کہا: حاکم کا پروانہ لکھنا فَهُوَ جَائِزٌ لِأَنَّ هَذَا مَالٌ بِزَعْمِهِ درست ہو گا سوائے شرعی مقرر کردہ سزاؤں وَإِنَّمَا صَارَ مَالًا بَعْدَ أَنْ ثَبَتَ الْقَتْلُ کے۔پھر انہوں نے کہا: اگر قتل غلطی سے ہوا ہے فَالْخَطَأُ وَالْعَمْدُ وَاحِدٌ۔وَقَدْ كَتَبَ تو وہ پروانہ درست ہو گا کیونکہ یہ اُن کی رائے میں عُمَرُ إِلَى عَامِلِهِ فِي الْحَدُودِ۔وَكَتَبَ دِیوانی دعوی ہے حالانکہ دیوانی تب ہی ہوا جبکہ قتل ثابت ہوا۔اس لئے ( پروانے پر اعتبار کرنے عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي سِن کے لحاظ سے) قتل خطا اور قتل عمد دونوں یکساں كُسِرَتْ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ كِتَابُ ہیں۔اور حضرت عمرؓ نے بھی اپنے کارکن کو شرعی الْقَاضِي إِلَى الْقَاضِي جَائِزٌ إِذَا عَرَفَ سزاؤں کے متعلق پروانے لکھے۔اور عمر بن الْكِتَابَ وَالْخَاتَمَ۔وَكَانَ الشَّعْبِيُّ عبد العزیز نے بھی ایک دانت کے متعلق جو توڑا يُجِيرُ الْكِتَابَ الْمَحْتُومَ بِمَا فِيهِ مِنَ گیا تھا پروانہ لکھا اور ابراہیم نے کہا: قاضی کا الْقَاضِي وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوُهُ قاضی کی طرف پروانہ لکھنا درست ہو گا بشرطیکہ وَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ التَّقَفِيُّ خط اور مہر کو پہچانتا ہو۔اور شعی مہر شدہ پروانے کو شَهِدْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ يَعْلَى قَاضِيَ جو مضمون اس میں قاضی کی طرف سے ہوتا درست الْبَصْرَةِ وَإِيَاسَ بْنَ مُعَاوِيَةَ وَالْحَسَنَ قرار دیتے تھے اور حضرت ابن عمر سے بھی اسی وَتُمَامَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ وَبِلَالَ طرح مروی ہے۔اور معاویہ بن عبد الکریم ثقفی بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ بُرَيْدَةَ نے کہا: میں نے عبد الملک بن یعلیٰ بصرہ کے