صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 17 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 17

12 ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔صحيح البخاری جلد ۱۶ من الاسلام فيحارب الله عز وجل ورسوله یا حارب اللہ و رسولہ اور حالات بھی اس قسم کے ہوتے کہ اُس زمانہ میں ایک شخص کا ارتداد صرف تبدیلی دین تک ہی محدود ہوتا اور اس کے وجود سے اور کسی قسم کا خطرہ متوقع نہ ہو سکتا تب ہم اس بات کو تسلیم کر لیتے کہ بے شک ان احادیث سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ محض ارتداد کی سزا قتل ہے اور پھر اس حالت میں قرآن شریف کی کھلی کھلی تعلیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ب دیکھتے کہ آیا قتل کا کوئی ایسا مفہوم ہو سکتا ہے جو قرآن شریف کی تعلیم کے مخالف نہ ہو مگر یہاں تو صورت ہی دگرگوں ہے۔اگر بعض احادیث میں محض ارتداد کا ذکر ہے تو اس کے ساتھ دوسری احادیث میں جو صحیح بخاری اور دوسری کتب صحاح میں موجود ہیں اور اُن میں ارتداد کے ساتھ محاربہ کی شرط موجود ہے، کسی میں الفارق للجماعة یا المفارق للجماعة کے الفاظ ہیں، کسی میں خالف دین الاسلام کے الفاظ ہیں، کسی میں صرف حارب اللہ و رسولہ کے ہی الفاظ ہیں۔اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ اگر ایک امر کے متعلق دو قسم کی روایات ہوں، بعض روایات میں قید ہو اور بعض میں قید کا ذکر نہ ہو تو ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے اس کے فیصلہ کے لیے میں خود اپنی طرف سے کوئی قاعدہ پیش نہیں کرتا بلکہ وہی قاعدہ پیش کرتا ہوں جو علماء اسلام میں مسلم چلا آتا ہے۔اس امر کے فیصلہ کے لیے اصول فقہ کا ایک مسلم قاعدہ ہے جو میں ذیل میں نقل کرتا ہوں۔نور الانوار میں لکھا ہے: وعندنا لا يحمل المطلق على المقيد وان كانا في حادثة واحدة لإمكان العمل بهما إلا ان يكونا فى حكم واحد مثل صوم كفارة اليمين في قوله تعالى فمن لم يجد فصيام ثلاثة ايام فان قراءة العامة مطلقة و قراءة ابن مسعود رضی الله عنه فصيام ثلاثة ايام متتابعات مقيدة بالتتابع والقراءتان بمنزلة الايتان في حق المعاملة فيجب ههنا ان تقيد قراءة العامة ايضًا بالتتابع لأن الحكم وهو الصوم لا يقبل و صفين متضادين فأذا ثبت تقییده بطل اطلاقها ترجمہ : یہ کہ ہمارے نزدیک مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جاتا اگر چہ حادثہ ایک ہو لیکن اگر (شرح نور الأنوار على المنار فى حاشية كشف الأسرار، فصل التنصيص على الشيئ۔۔۔الجزء الأول، صفحه ۴۲۵، ۴۲۶)