صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 394 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 394

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۹۴ ۹۳ - كتاب الأحكام يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ وَمَا أَصْبَحَ پسند ہو جتنا کہ آپ کے گھرانے کا اور آج سطح الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ زمین پر کوئی گھرانہ بھی ایسا نہیں کہ جس کا معزز أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يُعِرُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ہونا مجھے اتنا پسند ہو جتنا آپ کا گھرانہ۔پھر کہنے ثُمَّ قَالَتْ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسَيكَ لگیں: ابوسفیان ایک بہت ہی بخیل آدمی ہے تو کیا فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ حَرَجٍ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ مجھ پر کچھ گناہ ہو گا کہ میں اپنے بال بچوں کو وہ چیز الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا قَالُ لَهَا لَا حَرَجَ کھلاؤں جو اس کی ہے۔آپ نے اُسے فرمایا: تم پر عَلَيْكِ أَنْ تُطْعِمِيهِمْ مِنْ مَعْرُوفٍ۔کچھ گناہ نہیں کہ تم ان کو دستور کے موافق کھلاؤ۔أطرافه : ۲۲۱۱، ٢٤٦۰ ، ۳۸۲٥، ٥۳۵۹، ٥٣٦٤ ٥٣٧٠، ٦٦٤، ۷۱۸۰- تشريح۔مَنْ رَأَى لِلْقَاضِي أَن تَحْكُم بِعِلْمِهِ فِي أَمْرِ النَّاسِ إِذَا لَمْ يَخْفِ القُنُونَ وَالقُهَمَةَ : جو قاضی کے متعلق یہ جائز سمجھے کہ وہ لوگوں کے معاملات میں اپنے علم کی بنا پر فیصلہ کرے بشر طیکہ اسے بد گمانیوں اور تہمت کا ڈر نہ ہو۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری نے اس عنوان میں امام ابو حنیفہ اور ان سے متفق ہونے والوں کے اس قول کی طرف اشارہ کیا ہے کہ قاضی لوگوں کے حقوق کے متعلق تو اپنے علم کے مطابق فیصلہ دے سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے حقوق مثلاً حدود کے متعلق اپنے علم کی بناء پر فیصلہ نہیں دے سکتا، کیونکہ ایسا کرنا (حدود اللہ کے متعلق) نرمی برتنے کا موجب ہو گا۔پھر یہ قول کہ جس نے قاضی کے لیے جائز قرار دیا کہ وہ اپنے علم کی بناء پر فیصلہ کر سکتا ہے، امام بخاری نے اس (قول) کو اس امر سے مقید کیا ہے کہ جب اسے بد گمانیوں اور تہمت کا خطرہ نہ ہو۔کیونکہ جن علماء نے ایسا کرنے سے مطلقا منع کیا ہے انہوں نے اس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ قاضی معصوم نہیں، ممکن ہے کہ جب وہ اپنے علم کی بناء پر فیصلہ دے تو اس پر تہمت لگے کہ اُس نے اپنے دوست کے حق میں اس کے دشمن کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔لہذا امام بخاری نے اس شرط کے ساتھ کہ جب بد گمانی اور تہمت کا خطرہ نہ ہو، اسے جائز قرار دیا ہے۔علامہ کر ایسی کہتے ہیں کہ علم کی بناء پر ( دیئے جانے والے) حکم کے جائز ہونے کے متعلق شرط میرے نزدیک یہ بتانے کے لیے ہے کہ حاکم اصلاح بین الناس، عفت و پاکدامنی اور صدق وصفا میں مشہور ہونا چاہیئے۔تقویٰ کے اسباب کی موجودگی اور تہمت کی وجوہات کا فقدان ہی اُس کے لیے جائز ٹھہراتا ہے کہ وہ محض اپنے علم کی بناء پر فیصلہ کرے۔مزید بر آں علامہ ابن حجر نے معنونہ الفاظ وَذَلِكَ إِذَا كَان أَمْرًا مَشْهُورًا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھا ہے کہ امام بخاری نے علم کی بناء پر کیے جانے والے فیصلہ کے جواز کو اس بات سے بھی مشروط ٹھہر آیا ہے کہ قاضی ایسا فیصلہ تب ہی کر سکتا ہے جب وہ معاملہ مشہور و معروف ہو۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحه ۱۷۲)