صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 388
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۸۸ ۹۳ - كتاب الأحكام کے اس ارشاد کو سننے کے بعد حضرت معاویہ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا کہ لوگوں کی ضروریات اور مشکلات کامداوا کیا کرے اور ان کی ضرورتیں پوری کرے۔(ترمذی، كتاب الاحكام ، باب فى امام الرعية) آپ مزید فرماتے ہیں: (خطبات مسرور، خطبه جمعه ۳۱ ر د سمبر ۲۰۰۴، جلد دوم صفحه ۹۵۰) بعض عہدیداروں کے متعلق شکوہ ہے کہ لوگ کسی کام کے لیے عہدیداروں کے پاس اپنے کام کا حرج کر کے جاتے ہیں تو بعض عہدیدار، امراء بعض دفعہ مہینہ مہینہ نہیں ملتے۔ہو سکتا ہے اس میں کچھ مبالغہ بھی ہو کیونکہ شکایت کرنے والے بعض دفعہ مبالغہ بھی کر جاتے ہیں لیکن دنوں بھی کسی سے کیوں چکر لگوائے جائیں۔اس لئے امراء کو چاہئے کہ وقت مقرر کریں کہ اس وقت دفتر ضرور حاضر ہوں گے اور پھر اس وقت میں لوگوں کی ضروریات پوری کریں۔بعض امراء یہ کرتے ہیں کہ اپنے نمائندے بٹھا دیتے ہیں اور ان نمائندوں کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ فلاں فیصلہ بھی کرنا ہے، اب اگر اس فیصلے کے لیے جانا پڑے تو پھر ان کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ امراء خود جائیں یا پھر اپنے نمائندے کو پورے اختیار دیں۔“ نیز آپ نے فرمایا: (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۳۱ ر د سمبر ۲۰۰۴، جلد دوم، صفحه ۹۵۴) ”جو لیڈر بنایا گیا ہے وہ قوم کا خادم بن کر خدمت کرے۔صرف منہ سے کہنے کی حد تک نہیں۔چار آدمی کھڑے ہوں تو کہہ دیا جی میں تو خادم ہوں بلکہ عملاً ہر بات سے ہر فعل سے یہ اظہار ہوتا ہو کہ یہ واقعی خدمت کرنے والے ہیں اور اگر اس نظریے سے بات نہیں کہہ رہے تو یقیناً پوچھے جائیں گے۔جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کو پوری طرح ادا نہ کرنے کی وجہ سے یقینا جواب طلبی ہو گی۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت معقل بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا نگران اور ذمہ دار بنایا ہے وہ اگر لوگوں کی نگرانی اور اپنے فرائض کی ادائیگی اور ان کی