صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 389
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۸۹ ۹۳ - كتاب الأحكام خیر خواہی میں کو تاہی کرتا ہے تو اس کے مرنے پر اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت حرام کر دے گا۔ اور اسے بہشت نصیب نہیں کرے گا۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب استحقاق الوالى الغاش لرعية النار ) اب دیکھیں اس انذار کے بعد کون ہے جو بڑھ بڑھ کر اختیارات کو حاصل کرنے کی خواہش کرے یا عہدے کو حاصل کرنے کی خواہش کرے۔ یہ تو ایسا خوف کا مقام ہے کہ اگر صحیح فہم اور ادراک ہو تو انسان ایک کونے میں لگ کے بیٹھ جائے۔ پس عہدیدار اس فضل الہی کی قدر کریں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں۔ اللہ تعالیٰ کا غضب لینے کی بجائے اس کی محبت حاصل کرنے والے بنیں۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه ۱۳۱ و سمبر ۲۰۰۴، جلد دوم صفحه ۹۴۹، ۹۵۰) باب ۱۲ الْحَاكِمُ يَحْكُمُ بِالْقَتْلِ عَلَى مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ دُونَ الْإِمَامِ الَّذِي فَوْقَهُ حاکم ایسے شخص کے قتل کا فیصلہ کر سکتا ہے جس کا قتل واجب ہے بغیر اس امام کی اجازت کے جو اسکے اوپر ہے ٧١٥٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ۷۱۵۵: محمد بن خالد دہلی نے ہم سے بیان کیا کہ الدُّهْلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ محمد بن عبداللہ انصاری نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے تمامہ ثُمَامَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنَّ سے ، ثمامہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ كَانَ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ کی۔ اُنہوں نے کہا: قیس بن سعد نبی صلی اللہ علیہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْزِلَةِ وسلم کے سامنے اس طرح رہا کرتے تھے جیسے صَاحِبِ الشَّرَطِ مِنَ الْأَمِيرِ۔ کوتوال امیر کے سامنے۔ ٧١٥٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۷۱۵۶: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحییٰ قطان يَحْيَى هُوَ الْقَطَّانُ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قرہ بن خالد سے حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبُو روایت کی کہ مجھے حمید بن ہلال نے بتایا۔ ابو بردہ