صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 387
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۳۸۷ ۹۳ - كتاب الأحكام لَكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہے۔حضرت انس کہتے تھے: یہ سن کر آنحضرت قَالَتْ مَا عَرَفْتُهُ قَالَ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللهِ صلى الله علیہ وسلم اس کو چھوڑ کر آگے چلے گئے۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَاءَتْ پھر ایک اور شخص اس کے پاس سے گزرا اس نے إِلَى بَابِهِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا فَقَالَتْ پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللهِ مَا عَرَفْتُكَ فَقَالَ تھا؟ وہ بولی میں نے اُن کو نہیں پہچانا۔اس آدمی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ نے کہا: وہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔حضرت انس کہتے تھے: یہ سن کر وہ عورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئی اور وہاں کوئی دربان نہ پایا۔کہنے لگی: یارسول اللہ ! بخدا میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔نبی صلی ا ہم نے فرمایا: صبر تو وہی ہے جو شروع صدمہ میں ہو۔الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ۔أطرافه : ۱۲٥٢، ۱۲۸۳، ۱۳۰۲۔ريح : مَا ذُكِرَ أَنَّ النَّبِي لَمْ يَكُن له بواب : یہ و ذکر کیاگیاہے کہ نہ صل اللہ علیہ سلم کا کوئی دربان نہ تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”ایک اور روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو لوگوں میں سے زیادہ محبوب اور اس کے زیادہ قریب انصاف پسند حاکم ہو گا اور سخت ناپسندیدہ اور سب سے زیادہ دور ظالم حاکم ہو گا۔(ترمذی، ابواب الاحكام ، باب فی الامام العادل) پس سب کو چاہئے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محبوب بنیں۔اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کے لئے وہ طریقے اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ کے رسول نے بتائے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے ابو الحسن بیان کرتے ہیں کہ عمر و بن مرہ نے حضرت معاویہ سے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو امام حاجت مندوں، ناداروں، غریبوں کے لئے اپنا دروازہ بند رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضروریات وغیرہ کے لئے آسمان کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔حضور علیہ السلام