صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 386
صحیح البخاری جلد ۱۶ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ۔أطرافه : ٣٦٨٨، ٦١٦٧، ٦١٧١- ۹۳ - كتاب الأحكام کے رسول سے محبت رکھتا ہوں آپ نے فرمایا: تم انہی کے ساتھ ہو گے جن سے تم نے محبت رکھی۔ح: الْقَضَاءُ وَالْفُتْيَا فِي الطَّرِيقِ : راستے میں کوئی فیصلہ کرنا اور فتوی دین۔علامہ ابن حجر" بیان کرتے ہیں کہ معنونہ حدیث سے راستے میں فتویٰ دینے کا جواز ثابت ہے۔علامہ ابن بطال کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ استدلال بھی ہوتا ہے کہ سائل کو جواب دینے اور فتوی دینے سے عالم کا خاموش رہنا بھی جائز ہے جبکہ مسئلہ غیر معروف ہو یا ایسا ہو کہ لوگوں کو اس کی ضرورت نہ ہو یا ایسا ہو کہ اس سے کسی فتنہ کا یا بری تاویل لیے جانے کا خدشہ ہو۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ سوار یا پیدل چلتے ہوئے فیصلہ کرنے کے جواز یا عدم جواز کے متعلق اختلاف ہے۔اشہب کہتے ہیں کہ اگر معاملہ سمجھنا مشکل نہ ہو تو (ایسی حالت میں فیصلہ دینے میں ) کچھ حرج بھی نہیں۔سحنون نے کہا کہ ایسے (فیصلہ ) نہیں کرنا چاہیئے۔ابن حبیب کہتے ہیں کہ آسان معاملہ کا فیصلہ کرنے میں تو حرج نہیں ہے، لیکن اگر معاملہ ایسا ہو کہ پہلی دفعہ دیکھا جارہا ہو تو ایسی صورت میں درست نہیں۔علامہ ابن التین کہتے ہیں کہ کسی دقیق مسئلہ کا راستے میں فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۱۶۳، ۱۶۴) بَاب ۱۱ : مَا ذُكِرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لَهُ بَوَّابٌ یہ جو ذکر کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دربان نہ تھا ٧١٥٤: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ :۷۱۵۴: اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عبد الصمد نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنَ کیا۔ثابت بنانی نے ہمیں بتایا۔ثابت نے حضرت مَالِكِ يَقُولُ لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ تَعْرِفِينَ انس بن مالک سے روایت کی۔وہ اپنے گھر والوں فُلَانَةَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ النَّبِيَّ میں سے کسی عورت سے کہہ رہے تھے: کیا تم فلاں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ عورت کو جانتی ہو ؟ اس نے کہا: ہاں۔انہوں نے تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ اتَّقِي الله کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے وَاصْبِرِي فَقَالَتْ إِلَيْكَ عَنِّي فَإِنَّكَ اور وہ ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔آپ خِلْوْ مِنْ مُصِيبَتِي قَالَ فَجَاوَزَهَا نے فرمایا: اللہ کو اپنا سپر بناؤ اور صبر کرو۔وہ بولی: وَمَضَى فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ فَقَالَ مَا قَالَ مُجھ سے چلے جاؤ کیونکہ تمہیں وہ دکھ نہیں جو مجھے