صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 16 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 16

صحيح البخاری جلد ۱۶ IY ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ذیل میں درج کرتا ہوں تا ناظرین اس ساری فہرست پر یکجائی نظر ڈال کر خود ہی فیصلہ فرمالیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے مرتدین کے متعلق قتل کا حکم دیا۔وہ فہرست یہ ہے: (۱) من بدل دینه (۲) من خالف دينه دين الاسلام (۳) من غير دينه (۴) ارتد عن الاسلام (۵) كفر بعد الاسلام (۶) المارق لدينه الفارق للجماعة (۷) رجل خرج محاربا الله ورسوله (۸) رجل يخرج من الاسلام فيحارب الله عز وجل ورسوله (۹) رجل حارب الله ورسوله وارتد عن الاسلام (۱۰) حارب الله ورسوله صلی اللہ علیہ وسلم (۱۱) التارك لدينه المفارق للجماعة - مندرجہ بالا فہرست میں بعض احادیث میں تو صرف کفر بعد اسلام یا تبدیلی اسلام یا تبدیلی دین یا ارتداد کا لفظ بیان کیا گیا ہے اور بعض میں ان الفاظ کے ساتھ مزید شرط بڑھائی گئی ہے۔کسی حدیث میں الفارق للجماعة کے الفاظ بڑھائے ہیں، کسی میں حارب الله ورسولہ کے الفاظ بڑھائے ہیں، کسی میں صرف حارب الله ورسوله کے الفاظ ہیں اور یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے، کسی میں خالف دین الاسلام کے الفاظ ہیں مگر جب ہم حامیان قتل مرتد کی پیش کردہ فہرست پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے نہایت احتیاط سے ان احادیث کو نظر انداز کر دیا ہے جن میں محاربہ کا ذکر ہے حالانکہ یہ احادیث صحیح بخاری میں موجود ہیں اور اُن کی نظر سے مخفی نہیں تھیں۔ان کا ان احادیث کو قطعا نظر انداز کر دینا صاف ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے اس بحث میں دیانتداری سے کام نہیں لیا بلکہ ان احادیث کو اپنے مطلب کے مخالف ہونے کی وجہ سے ترک کر دیا ہے۔حامیان قتل مرتد کی اس دیانتداری کی طرف اشارہ کرنے کے بعد میں اب ان احادیث کی طرف رجوع کرتا ہوں اور ناظرین کی خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ ان سب پر یکجائی نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ ان سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔اگر ان سب احادیث میں صرف کفر بعد اسلام یا تبدیلی دین یا ارتداد کا ہی ذکر ہوتا اور کسی صحیح حدیث میں کوئی شرط نہ ہوتی مثلاً الفارق للجماعة کے الفاظ یا خالف دین الاسلام یا خرج محار بالله ورسوله يا يخرج