صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 381
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ لَهُ بن سیار کی اس بیماری میں عیادت کی جس میں وہ مَعْقِلْ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ فوت ہو گئے تو حضرت معقل نے ان سے کہا: میں مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تم سے ایک بات کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔میں نے نبی صلی اللہ علیہ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدِ يَسْتَرْعِيْهِ اللَّهُ رَعِيَّةَ وَسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے : جس بندے کو فَلَمْ يَحُطْهَا بِنُصْحِهِ لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ بھی اللہ کسی رعیت کا والی بنائے اور وہ اس کی پورے طور پر خیر خواہی نہ کرے تو وہ جنت کی الْجَنَّةِ۔طرفه : ٧١٥١۔خوشبو قطعانہ پائے گا۔٧١٥١: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ :۷۱۵۱ اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ قَالَ زَائِدَةُ حسین جعفی نے ہمیں بتایا زائدہ نے کہا اس حدیث ذَكَرَهُ هِشَامٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ أَتَيْنَا کو ہشام نے اُن سے بیان کیا۔ہشام نے حسن سے مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ نَعُودُهُ فَدَخَلَ عَلَيْنَا روایت کی۔حسن نے کہا: ہم حضرت معقل بن یسار عُبَيْدُ اللهِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلْ أُحَدِّثُكَ کے پاس ان کی عیادت کے لئے آئے اتنے میں حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى عبيد الله بن زیاد) بھی اندر آئے تو حضرت معقل نے اُن سے کہا: میں تم سے ایک ایسی بات بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی آپ نے فرمایا: جو حاکم بھی مسلمانوں میں سے کسی رعیت کا والی بنتا ہے اور وہ ایسی حالت میں فوت ہو جائے کہ وہ اُن کا بدخواہ ہو تو اللہ اُس پر اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاضٌ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ۔طرفه : ۷۱۵۰- جنت کو حرام کر دے گا۔تشريح۔مَنِ اسْتَرْعَى رَعِيَّةً فَلَمْ يَنْصَخ: جو شخص کی رعیت کا ولی بنایا گیا اور پھر شیر خواری نہیں کی۔شارح بخاری علامہ ابن بطال بیان کرتے ہیں کہ والی یعنی حاکم پر رعیت کی خیر خواہی فرض ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں ظالم حکمرانوں کے لیے شدید انذار ہے کیونکہ جس کسی نے اللہ تعالیٰ کی