صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 380 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 380

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام پس یہ ہر اُس شخص کے لئے بہت خوف کا مقام ہے جس کے سپر د کوئی نہ کوئی خدمت کی جاتی ہے۔لوگوں کو عہدوں کی بڑی خواہش ہوتی ہے۔لیکن اگر اُن کو پتہ ہو کہ یہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے اور اس کا حق ادا نہ کرنے پر خدا تعالیٰ کی ناراضگی بھی ہو سکتی ہے اور اس کی گرفت بھی ہو سکتی ہے تو ہر عہدیدار سب سے بڑھ کر ، دوسروں سے بڑھ کر دن اور رات استغفار کرنے والا ہو۔ہر عہدیدار کو یاد رکھنا چاہئے کہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد یا عہدہ کی منظوری آجانے کے بعد وہ آزاد نہیں ہو گیا، بلکہ ایسے بندھن میں بندھ گیا ہے جس کو نہ نبھانے کی صورت میں یا اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کے مطابق نہ بجالانے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لینے والا بھی ہو سکتا ہے۔ہر عہدیدار نے ہر فردِ جماعت کا حق بھی ادا کرنا ہے اور جماعت کا مجموعی طور پر بحیثیت جماعت بھی حق ادا کرنا ہے۔کیونکہ ہر عہدیدار کو یہ سوچنا چاہئے کہ میں ایک جماعتی عہدیدار ہوں اور کسی بھی قسم کی میری کمزوری جماعت کو متاثر کر سکتی ہے یا جماعت کے نام کو بد نام کرنے والی ہو سکتی ہے۔اس لئے اُسے یہ حق بھی ادا کرنے والا ہو نا چاہئے اور پھر اپنے نمونے قائم کرتے ہوئے دینی حقوق کے ساتھ ساتھ دنیاوی حقوق کی بھی مثال قائم کرنی چاہئے۔یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے، میں اس میں جو مرضی کروں۔جماعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس لئے مجھے آزادی ہے جو چاہوں میں کروں۔ہر عہدیدار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اُس کی ذات بھی اب ہر معاملے میں جماعتی مفادات کے تابع ہے۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۱۲ / اپریل ۲۰۱۳، جلد ۱۱ صفحه ۲۲۶ ۲۲۷) بَاب : مَنِ اسْتَرْعِيَ رَعِيَّةً فَلَمْ يَنْصَحْ جو شخص کسی رعیت کا والی بنایا گیا اور پھر خیر خواہی نہیں کی ٧١٥٠: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۷۱۵۰: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالا شہب أَبُو الْأَشْهَبِ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حسن (بصری) سے بْنَ زِيَادٍ عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِی روایت کی کہ عبید اللہ بن زیاد نے حضرت معقل