صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 382 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 382

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۸۲ ۹۳ - كتاب الأحكام سپرو کر دہ رعایا کے امور کی نگرانی میں کوتاہی کی بہ وتا ہی لی، یا ان سے خیانت کی، یا ان پر ، خیانت کی، یا ان پر ظلم کیا تو قیامت کے دن اُس سے بندوں کے مظالم کا مواخذہ کیا جائے گا۔ پس وہ کیسے ایک بڑی قوم کے ظلم سے خلاصی پاسکے گا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ حاکم پر یہ بھی واجب ہے کہ وہ اپنے اور مظلوموں کے درمیان کوئی پردہ یعنی روک حائل نہ ہونے دے۔ کیونکہ اس بارہ میں بھی سخت انذار واقع ہوا ہے۔ حضرت ابو مریم فلسطینی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جو کوئی لوگوں کے امور میں سے کسی امر پر نگر ان ہو اور وہ ان کی مفلسی، ان کی محتاجی اور ان کی بھوک سے پردے میں رہا تو اللہ تعالیٰ بھی اُس کی مفلسی، محتاجی اور بھوک (دور کرنے) سے پردہ کرلے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ اگر امراء نے ایسا کیا تو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے اور تمام مومنوں سے خیانت کی۔ (شرح صحیح البخاری لابن بطال، جزء ۸ صفحه ۲۱۹، ۲۲۰) باب ۹ : مَنْ شَاقَ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ جو لوگوں کو مشکلات میں ڈالے تو اللہ اس کو مشکلات میں ڈالے گا ٧١٥٢: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ۷۱۵۲: اسحاق واسطی نے ہم سے بیان کیا کہ خالد حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جزیری سے، جریری طَرِيفِ أَبِي تَمِيمَةَ قَالَ شَهِدْتُ نے طریف ابو تمیمہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے صَفْوَانَ وَجُنْدَبًا وَأَصْحَابَهُ وَهُوَ کہا: میں صفوان اور حضرت جندب اور ان کے ساتھیوں میں موجود تھا جبکہ حضرت جندب اُن کو يُوصِيهِمْ فَقَالُوا هَلْ سَمِعْتَ مِنْ نصیحت کر رہے تھے تو انہوں نے پوچھا، کیا آپ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ شَيْئًا قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ سَمَّعَ اُنہوں نے کہا: میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا جس سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ وَمَنْ نے شہرت پیدا کرنے کے لئے کوئی نیک کام کیا شَاقَ شَفَقَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللہ قیامت کے دن اس کی ریا کاری کو سنائے گا فَقَالُوا أَوْصِنَا فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ اور جس نے سختی کی اللہ قیامت کے دن اس پر بھی مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُهُ فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ سختی کرے گا۔ یہ سن کر لوگوں نے کہا: آپ ہمیں ا فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں یہاں لفظ ”يَشْقُقُ “ ہے ) لفظ تشفق ہے ( فتح الباری، جزء ۱۳ حاشیہ صفحہ ۱۶۰) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔