صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 379 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 379

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الْإِمَارَةِ: حکومت کی خواہش کر نا نا پسند یدہ ہے۔حضرت خلیفۃ ا صحیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”بجائے عہدہ کی خواہش رکھنے کے استغفار کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ اگر کسی وقت بھی میرے سپرد یہ خدمت ہوئی تو میں اس کو احسن رنگ میں سر انجام دے سکوں۔عہدہ کی خواہش رکھنے والے کے بارے میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایسے شخص کو پھر عہدہ ہی نہ دو۔اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ امانتوں کی حفاظت کرو تم اس بارے میں پوچھے جاؤ گے۔عہدے اور جماعتی خدمت بھی امانتیں ہیں۔اگر انسان کے دل میں تقویٰ ہو تو وہ ہر وقت خوفزدہ رہے کہ جو خدمت میرے سپر د ہے اُس کا حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے میری جواب طلبی ہو گی اور کسی بندے کے سامنے جواب طلبی نہیں ہو گی جس کو باتوں میں کچرا کر دھو کہ دیا جاسکتا ہو بلکہ اس عالم الغیب، علیم و خبیر خدا کے سامنے جواب دہی ہو گی جس سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں، جسے دھو کہ نہیں دیا جاسکتا۔پس اگر یہ بات سب عہدیدار بھی سامنے رکھیں اور عہدوں کی خواہش رکھنے والے بھی سامنے رکھیں تو نفسانی خواہشات کے بجائے تقویٰ کی طرف قدم آگے بڑھیں گے۔“ (خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرموده یکم جون ۲۰۱۲، جلد ۱۰ صفحه ۳۴۶) نیز آپ نے فرمایا: عہدے کوئی بڑائی نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔دعاؤں کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو نبھانے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ سمیع ہے ، وہ تمہاری دعاؤں کو سنتا ہے، خاص طور پر جب خدا تعالیٰ کے حکموں پر پورا اترنے کی دعائیں کی جائیں تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور شامل حال ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ جس طرح رائے دینے والے پر ، ووٹ دینے والے پر گہری نظر رکھنے والا ہے ، اسی طرح عہدیدار پر بھی اُس کی گہری نظر ہے۔اگر اپنی ذمہ داری نہیں نبھائیں گے، اگر عدل اور انصاف سے فیصلے نہیں کریں گے ، اگر اپنے کاموں کو اُن کا حق ادا کرتے ہوئے نہیں بجالائیں گے تو پھر خدا تعالیٰ جو ہر چیز کو دیکھ رہا ہے، وہ فرماتا ہے پھر تم پوچھے بھی جاؤ گے۔تمہاری جواب طلبی ہو گی۔