صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 15 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 15

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۵ -۸۸ کتاب استتابة المرتدين کیا جائے گا اور ہر وہ عیسائی جو مسلمان ہو قتل کیا جائے گا اور ہر وہ مشرک جو کوئی اور دین اختیار کرے قتل کیا جائے گا!! پھر لفظ ”من“اسلامی حکومت کی حدود سے باہر بھی اطلاق پائے گا یعنی ہر وہ شخص جو اپنا دین بدلے قتل ہو گا خواہ اسلامی حکومت سے باہر آسٹریلیا میں رہتا ہو یا افریقہ اور جنوبی امریکہ کے جنگلوں میں !! نیز سوچئے کہ اسلام خود تو اپنے پیروکاروں کو یہ تلقین کرتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو دین اسلام کی طرف بلاؤ حتی کہ وہ ہر مسلمان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مبلغ اور داعی الی اللہ بنے مگر دوسرے مذاہب کے بارہ میں کیا ہو گا؟ کیا ان کو بھی تبلیغ کا ویسا ہی حق حاصل ہو گا جیسا اسلام کو ہے ؟ قتل مرتد کے غیر انسانی اور بدعتی نظریہ کے حامی حضرات یہ نہیں سوچتے کہ مختلف قوموں اور مذاہب کے باہمی انسانی تعلقات پر اس نظریہ کے کیسے بد نتائج پڑیں گے ؟ وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اگر اس نظریہ کو درست مانا جائے تو پھر دوسرے لوگوں کو تو اپنا دین بدلنے کی اجازت ہو گی مگر مسلمان کو اپنا دین چھوڑنے کا حق نہ ہو گا اور اسلام کو تو یہ حق ہو گا کہ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کا دین بدلے مگر دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو قطعا یہ حق نہ ہو گا کہ اسلام کے پیروکاروں کو دوسرے عقائد کا قائل کریں ؟ اسلام کے عدل و انصاف کو کیسی بھیانک شکل میں یہ لوگ دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں! لہذا اس روایت سے قتل مرتد کا استدلال کرنا بالکل غلط ہے کیونکہ اس کا مفہوم غیر واضح ہے۔اس کا راوی کذاب، فاسق اور خارجی ہے جو حضرت علی پر تہمت لگا رہا ہے کہ آپ نے زندیقوں کو زندہ جلوا دیا اور اگر چہ حضرت امام بخاری کو علم نہ ہو سکا مگر آپ کے بعد کے محدثین نے ثابت کیا ہے کہ وہ خارجی اور حضرت علی کا دشمن تھا اور اس کا فسق اور خباثت اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ مسلمانوں نے اسکا جنازہ تک پڑھنا گوارا نہ کیا۔“ (اسلام میں ارتداد کی سزا، صفحہ ۹۰ تا۹۲، مصنفہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع) حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ان تمام احادیث میں جو جو الفاظ راویوں نے استعمال کیسے ہیں ان کی فہرست میں