صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 374
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۷۴ ۹۳ - كتاب الأحكام چنانچہ حضور اکرم علی ایم کی تعلیمات کی اس روح کے ساتھ آپ اپنے امیر اور دیگر عہدیداران کی پیروی کریں۔اس بات سے قطع نظر کہ آپ انہیں متقی سمجھتے ہیں یا نہیں۔یہ آپ کا کام نہیں کہ اس بارہ میں کوئی رائے دیں۔یہ بعد الموت اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔“ (خطبات طاہر، خطبہ جمعہ فرموده ۸ / اکتوبر ۱۹۸۲، جلد اول صفحه ۱۹۰ تا ۱۹۲) بَابه : مَنْ لَمْ يَسْأَلِ الْإِمَارَةَ أَعَانَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا جو حکومت کا خواہاں نہ ہو اللہ اس کی مدد کرے گا ٧١٤٦: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ :۱۴۶: حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الْحَسَنِ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حسن عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ (بصری) سے حسن نے حضرت عبد الرحمن بن سمرہ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ نے مجھ سے فرمایا: عبدالرحمن حکومت کی درخواست إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وَكِلْتَ إِلَيْهَا نہ کرو۔کیونکہ اگر مانگنے پر تمہیں وہ دی گئی تو تمہیں وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ اِس کے سپرد کر دیا جائے گا اور اگر بغیر مانگنے کے تمہیں وہ دی گئی تو اس کے سر انجام دینے میں عَلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ تمہاری مدد کی جائے گی اور اگر تم کوئی قسم کھا بیٹھو فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ پھر تم اس کے سوا کسی اور بات کو اس سے بہتر يَمِينِكَ وَأتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ۔أطرافه : ٦٦٢٢، ٦٧٢٢، ٧١٤٧- دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہی بات کرو جو بہتر ہے۔مريح : مَنْ لَمْ يَسْأَلِ الْإِمَارَةَ أَعَانَهُ اللهُ عَلَيْهَا : جو حکمت کاخواہاں نہ ہو الہ اس کی مد کرے گا۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ابو ذر غفاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے دولڑکوں کو لے جاکر یہ سفارش کی کہ ان کا بھی یہ خیال ہے اور مجھے بھی یہی خیال ہے کہ زکوۃ کی وصولی پر ان کو لگایا