صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 373
صحیح البخاری جلد ۱۶ سلام کے سام ۹۳ - كتاب الأحكام کی نشانی ہے۔اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ جتنا سر چھوٹا ہو گا اتناہی وہ شخص احمق اور بے وقوف ہو گا۔اگر چھوٹا سر ہے تو زیادہ احمق ہو گا۔چنانچہ آنحضور صلی ا ہم نے یہ دونوں کمزوریاں جمع فرما دیں اور فرمایا کہ اگر وہ ایک حبشی غلام ہو جس کا سر بھی اتنا چھوٹا ہو کہ محسوس ہو کہ اسکا دماغ ہی نہیں ہے ، تب بھی اگر وہ امیر مقرر ہو جائے تو اسکی اطاعت کرو۔(صحیح بخاری، کتاب الاحكام، باب السبع والطاعة للامام مالم تكن معصية) اسی صورت حال کا ایک اور پہلو بھی ہے۔جب کوئی شخص نماز کی امامت کروارہا ہو۔بعض لوگ متجسس ہوتے ہیں اور لوگوں کے بارہ میں ایسی معلومات رکھتے ہیں جو باقی جماعت کو معلوم نہیں ہوتیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہے ، وہ برائیوں کا شکار ہے۔خواہ ان کے پاس کافی ثبوت ہو یا نہ ہو۔خواہ وہ اس الزام کے ثبوت میں اسلامی قوانین کے مطابق تسلی بخش شہادت پیش نہ کر سکیں۔انہیں اس سے کوئی غرض نہیں۔وہ صرف ایک ہی رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ ہمیں علم ہے کہ فلاں فلاں شخص برائیوں کا شکار ہے۔چنانچہ اسے کوئی عہدہ نہیں ملنا چاہئے۔خصوصاً اس کے امام الصلوۃ ہونے کے بارہ میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔یہ سوالات حضرت محمد صلی ا کرم کے زمانہ میں بھی اٹھائے گئے تھے اور ان کا قیامت تک کیلئے فیصلہ فرما دیا گیا۔دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی شخص بد کار ہو، نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والا ہو ، بد تہذیب ہو اور نہایت بُرے کردار کا شخص ہو، اگر وہ امام الصلوۃ مقرر ہو جائے اور بعض لوگوں کی نظر میں اس کا امام ہو نا کھٹکتا ہے کہ متقی لوگ اس قسم کے شخص کی پیروی میں نماز با جماعت کے لئے کھڑے ہوں تو اس قسم کے امام الصلواۃ مقرر ہونے کی صورت میں متبعین کو کیا کرنا چاہئے۔حضور اکرم صلی ا ہم نے فرمایا کہ اس کی پیروی کرو۔اللہ تعالیٰ ہی نمازیں قبول فرمائے گا۔کیونکہ نمازیں امام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔(سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ، باب امامة البر والفاجر) کیا ہی حسین تعلیم ہے اور یہ کتنی خوبصورت اور سلامتی والی ہے۔اسی وجہ سے اس کا نام اسلام ہے۔اس کا مطلب ہے سلامتی۔اس سے امن پھیلتا۔تا ہے۔یہ سلامتی لاتی ہے اور سلامتی کا پیغام دیتی ہے۔اسلام میں کوئی تفرقہ قابل قبول نہیں۔