صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 375 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 375

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۳۷۵ ۹۳ - كتاب الأحكام جائے۔تو آنحضرت ملی الم نے فرمایا کہ ابو ذر جسے عہدہ کی خواہش ہو ہم اسے عہدہ نہیں دیتے۔(صحیح مسلم ، کتاب الامارة، باب النهى عن طلب الامارة حدیث:۴۷۱۷) جب خدا دیتا ہے تو پھر توفیق دیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اس کی مدد بھی کرتا ہے۔اس خواہش کے بغیر کوئی شخص کسی بھی خدمت پر معمور کیا جاتا ہے تو پھر اللہ تعالٰی توفیق دیتا ہے کہ اس کی مدد بھی کرے اور اس میں برکت بھی ڈالے۔فرمایا کہ جب مانگ کر لیا جائے تو پھر کام جو ہے وہ حاوی کر دیا جاتا ہے۔پھر اللہ تعالٰی فرماتا ہے ٹھیک ہے تم نے مانگ کے کام لیا، تم سمجھتے ہو میں اس کا اہل ہوں، تمہاری آگے آنے کی بڑی خواہش تھی تو پھر یہ ساری ذمہ داریاں نبھاؤ۔میں دیکھوں تم کس حد تک نبھاتے ہو ؟ پس عہدے کی خواہش جو ہے اس میں نفس پسندی کا دخل ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات بالکل پسند نہیں کہ انسان اپنے نفس کا زیادہ سے زیادہ اظہار کرے۔اگر کسی میں کسی بھی قسم کی صلاحیت ہے تو اس صلاحیت کا اظہار چاہے وہ پیشہ وارانہ ہو یا اور علمی نوعیت کی ہو یا کسی بھی قسم کی ہو تو اس صلاحیت کا اظہار عہدیداران کی یا دوسرے کی مدد کر کے کیا جا سکتا ہے۔بغیر عہدے کے بھی خدمت کی جاسکتی ہے۔اگر تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خدمت کرنی ہے تو پھر عہدے کی خواہش تو کوئی چیز نہیں ہے۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۱۳/ مارچ ۲۰۰۹، جلدی صفحه (۱۳۸) وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا : حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: عہدیداران کو بھی بعض دفعہ۔قسم تو نہیں کھاتے لیکن۔بعض ضدیں ہوتی ہیں کہ یہ کام اس طرح نہیں ہونا چاہئے تو اگر جماعت کے مفاد میں ہو تو پھر تمہاری ضدیں یا تمہاری قسمیں زیادہ اہم نہیں ہیں۔ان کو ختم کرو۔یہ جماعت کے مفاد میں حائل نہیں ہونی چاہئیں بلکہ تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اس طرح کام ہونا چاہئے جس طرح جماعت کے حق میں بہترین ہو۔پھر ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسانی پیدا کرو