صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 372
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام طرف سے شروع ہو گئی تھیں کفر قرار دیا ہے۔مگر امیر کے خلاف سر اٹھانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ کفر بالکل صریح اور کھلا کھلا ہو اور کسی اجتہادی غلطی یا مشتبہ حالات کا نتیجہ نہ ہو۔حتی کہ امیر کی بریت کے لیے امکانی طور پر بھی تاویل کا کوئی دروازہ کھلا نہ رہے اور اسکی امارت اس حد تک خطر ناک صورت اختیار کرلے کہ اس کے توڑنے کے لیے ملک کے امن اور قوم کے اتحاد تک کو خطرے میں ڈالنا ضروری ہو جاوے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (سیرت خاتم النبيين على ام صفحه ۷۲۵،۷۲۴) "اگر کسی امیر نے غلطی سے آپ کو کوئی غلط حکم دے دیا ہے اور اگر وہ حکم قرآنی تعلیمات کے منافی نہیں آپ کو اس کی اطاعت کرنی ہے۔جیسا میں نے واضح کر دیا ہے اگر وہ حکم قرآن کریم کی تعلیمات کے منافی نہیں تو پھر آپ پر اطاعت فرض ہے۔اور اگر کسی آیت قرآنی کی تفسیر میں اختلاف بھی ہو تب بھی آپ نے بات مانی ہے۔کیونکہ یہ آپ کا کام نہیں کہ اس کی تاویل ڈھونڈ کر امیر کی اطاعت نہ کرنے کا بہانہ تلاش کریں۔حضرت رسول کریم صلی ا یم نے امیر کی اطاعت پر اتنا زور دیا ہے کہ لوگ تعجب کرتے تھے۔کسی نے دریافت کیا کہ حضور صلی ا نام کیا اگر کوئی شخص ایسا ایسا ہو تو کیا پھر بھی ہم اس کی اطاعت کریں۔آپ نے فرمایا: ہاں پھر بھی۔اگر کوئی شخص ایسا ہو تب بھی ہمیں اسکی اطاعت کرنی ہے۔آنحضور صلی ایم نے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ اگر ایک حبشی غلام جس کا سر منقہ کے دانے برابر ہو اور وہ تمہارے اوپر مقرر ہو جائے تب بھی تم نے اسکی اطاعت کرنی ہے۔اب یہ وہ کمزوریاں تھیں جو عرب ذہن کو مشتعل کرتی تھیں۔عرب ذہن اس بات کے ماننے کو تیار نہیں تھا کہ وہ کسی عجمی کی اطاعت کرے اور پھر ایسا شخص جو افریقہ کے سیاہ فام باشندوں کی سرزمین سے تعلق رکھتا ہو۔اس زمانہ کے عرب اس طرح کے لوگوں کی اطاعت کو خاص اپنی بے عزتی سمجھتے تھے۔اس پر مستزاد یہ کہ وہ غلام بھی ہو۔ایک حبشی اور اوپر سے غلام ، دو باتیں اکٹھی ہو کر عربوں کے لئے انہیں اپنا راہنما ماننا بہت مشکل تھا۔پھر بڑے سر قیادت اور عقلمندی کی نشانی تھے۔اور عرب بڑے سر ہونے پر فخر کرتے تھے کہ یہ عقل و دانش