صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 371 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 371

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے فرماتے ہیں: 33 ہر مسلمان پر اپنے امیر کا حکم مانا فرض ہے خواہ وہ حکم اسے پسند ہو یا نہ ہو۔لیکن اگر اسے کوئی ایسا حکم دیا جاوے جس میں خدائی قانون کی صریح نافرمانی لازم آتی ہو تو ایسے حکم کا سننا اور ماننا اس پر فرض نہیں ہو گا۔اگر باوجود رعایا کے اس نیک مشورہ اور اس جزوی عدم اطاعت کے کسی امیر کے ناجائز احکام کا سلسلہ ترقی کرتا جاوے اور وہ بر ملا طور پر خدائی قانون سیاست اور خدائی قانون شریعت کے خلاف قدم زن ہونا شروع کر دے۔حتٰی کہ اس کی امارت اس حد تک ضرر رساں صورت اختیار کرلے کہ اسے توڑنے کے لیے ملک کے امن اور جماعت کے اتحاد تک کو خطرے میں ڈالنا مناسب ہو جاوے تو اس قسم کے انتہائی حالات میں لوگوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اس امیر کی اطاعت سے خروج کر کے اس کے عزل کے لیے ساعی ہوں۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے: عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم على الشيع والطَاعَةِ فِي مَنْشَطَنَا وَمَكْرِهِنَا وَعُسْرِ نَا وَيُسْرِنَا وَآثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَى أَلَّا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلا أَن تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَ كُمْ مِنَ اللهِ فِيهِ بُرْهَانُ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور صحابی عبادہ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے بیعت میں یہ اقرار لیا کرتے تھے کہ ہم ہر حال میں اپنے امیر کی اطاعت کریں گے۔عسر میں اور یسر میں۔پسندیدگی کی حالت میں اور ناپسندیدگی کی حالت میں خواہ ہمارے حقوق ہمیں ملیں یا ہم سے چھینے جائیں۔اور یہ کہ ہم کسی حالت میں بھی اپنے امیروں کے ساتھ امارت کے معاملہ میں تنازعہ نہیں کرینگے۔مگر آپ نے فرمایا ”ہاں اگر تم اپنے امیر کے رویہ میں کوئی ایسا کھلا کھلا کفر پاؤ یعنی خدا کے کسی اصولی قانون کی ایسی صریح نافرمانی دیکھو جس کے متعلق تمہارے پاس خدا کی طرف سے کوئی روشن اور قطعی دلیل موجود ہو، تو پھر تمہیں اس کے ساتھ امارت کے معاملہ میں تنازعہ کرنے کا حق ہے۔“ اس حدیث میں جو کفر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ اس سے صرف عقیدہ کا کفر مراد نہیں بلکه قانون سیاست اور قانون شریعت کے کسی اصل الاصول کا توڑ نامراد ہے۔چنانچہ دوسری حدیث میں آتا ہے کہ کسی بے گناہ مسلمان کا نا جائز قتل بھی کفر میں داخل ہے۔اور محقق صحابہ نے ان خلاف شریعت کارروائیوں کو بھی جو حضرت عثمان کے زمانہ میں فتنہ پردازوں کی