صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 370 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 370

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام يح : السَّيْعُ وَالطَاعَةُ لِلْإِمَامِ مَالَمْ تَكُنْ مَعْصِيَةً: امام کی بات سنا اور مانا جب تک کہ وہ بات معصیت نہ ہو۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔۔احادیث میں اُمراء اور حکام کی بے انصافیوں اور خلاف شرع کاموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن پھر بھی آپ نے یہ فرمایا کہ ان کے خلاف بغاوت کرنے کا تمہیں حق نہیں ہے۔حکومت کے خلاف مظاہرے، توڑ پھوڑ اور باغیانہ روش اختیار کرنے والوں کا طرزِ عمل خلاف شریعت ہے۔حدیث کے الفاظ ہیں کہ وَانْ لَّا تُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَن تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِندَ كُمْ مِنَ اللهِ فِيهِ بُرْهَانُ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ اقرار بھی لیا کہ جو شخص حاکم بن جائے ہم اس سے جھگڑا نہیں کریں گے سوائے اس کے کہ تم اعلانیہ اس کو کفر کرتے ہوئے دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔۔۔اس حدیث میں اصل الفاظ یہی ہیں کہ تم نے اطاعت کرنی ہے سوائے اس کے کہ ایسی بات کی جائے جو کفر کی بات ہو یا تمہیں کفر پر مجبور کیا جارہا ہو۔اس کے علاوہ ہر معاملے میں اطاعت ہونی چاہئے اور اُس صورت میں بھی بغاوت نہیں ہے بلکہ وہ بات نہیں مانتی۔اطاعت نہ کرنے کی بعض حالات میں جیسا کہ میں نے کہا سوائے اس کے کہ کفر پر مجبور کیا جا رہا ہو ، جو ہمیں جماعت میں ایک مثال نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب پاکستان میں یا بعض دوسرے ممالک میں احمدیوں کو کہا جاتا ہے کہ تم اپنے آپ کو مسلمان نہ کہو تو ہم یہ بات ماننے کو تیار نہیں۔ہم مسلمان کہتے ہیں۔یا کلمہ نہ پڑھو۔ہم پڑھتے ہیں۔یا ایک دوسرے کو سلام نہ کہو، یا قرآنِ کریم نہ پڑھو۔تو یہ ہمارے مذہب کا اور دین کا معاملہ ہے۔اس بارہ میں جیسا کہ حدیث سے ظاہر ہے اطاعت کی ضرورت نہیں۔لیکن یہاں بھی ہم بغاوت نہیں کرتے۔صرف ان معاملوں میں ہم کبھی کسی قسم کے قانون کو مان ہی نہیں سکتے کیونکہ یہ شریعت کا معاملہ ہے۔اللہ اور رسول کے حکموں کا معاملہ ہے۔جہاں تک ملک کے دوسرے قوانین کا تعلق ہے ، اس کے باوجو د ہر احمدی ہر قانون کی پابندی کرتا ہے۔(خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل ۲۰۱۱، جلد ۹ صفحه ۱۵۶ ۱۵۷)