صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 14
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۴ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔مقام کا مقابلہ تو وہ نہیں کر سکتے تھے۔وہ خلیفۃ الرسول تھے۔خدا نے ان کو خلافت کے لئے چنا تھا۔یہ ممکن نہیں تھا کہ حضرت ابن عباس کو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا پاس ہو اور حضرت علی کو پاس نہ ہو۔اگر ہم روایت کو درست بھی مان لیں تب بھی ابن عباس کا طرز بیان ہی بتارہا ہے کہ وہ اس خبر کی تصدیق ہی نہیں کرتے۔وہ کہتے ہیں: میں اپنے متعلق سوچ کر دیکھتا ہوں تو میں کبھی ایسا کرنے کے لئے تیار ہی نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ واضح حکم تھا۔حضرت علی کب ایسا کر سکتے ہیں۔اس لئے حضرت علی کے متعلق ایسی ذلیل بات منسوب کرنا کہ انہوں نے زندہ جلا دیا یہ بالکل جھوٹ ہے اور قطعی جھوٹ ہے کیونکہ آپ کے ایک شدید دشمن کی طرف سے مروی ہے جو حضرت علی پر بہتان بازی کرنا چاہتا ہے۔چنانچہ اس بات کی تصدیق ایک دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں عکرمہ بتاتا ہے کہ جب حضرت علی کو حضرت ابن عباس کے اس رد عمل کی خبر پہنچی تو آپ نے سخت برہم ہو کر کہا: ” وتح ابنِ عباس “ کہ خدا ابن عباس کو غارت کرے۔” وَيحَ (سنن ابی داود، کتاب الحدود، باب الحكم فيمن ارتد) مَن بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ کے اصل معنی (۲) پھر ” مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ" کا جملہ عمومیت رکھتا ہے اور اس کے کئی معنے کئے جاسکتے ہیں۔چنانچہ لفظ ”من“ مرد، عورتوں اور بچوں سب پر اطلاق پاتا ہے مگر وو کئی فقہاء ایسے ہیں جنہوں نے مرتد عورت کے قتل کو ناجائز قرار دیا ہے۔(۳) پھر ” دینہ میں لفظ ”دین“ سے کوئی بھی دین مراد لیا جا سکتا ہے صرف اسلام ہی مراد نہیں لیا جا سکتا۔بت پرستوں کے دین کو بھی قرآن میں دین کہا گیا ہے۔(سورة الكافرون) ان احتمالات کے ہوتے ہوئے ایسی روایت کو صرف ایسے مسلمان سے جو اپنا دین بدل دے مخصوص کر دینا کس طرح ممکن ہے ؟ قانون کی حساس و باریک زبان کو مد نظر رکھتے ہوئے اس روایت کی رُو سے تو ہر اس انسان کو جو اپنا دین بدلے قتل کیا جائے گا خواہ اس کا کوئی بھی دین ہو۔پھر تو ہر وہ یہودی جو عیسائی ہو جائے قتل