صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 365 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 365

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۳۶۵ ۹۳ - كتاب الأحكام سادات سے ہو ، لاکن آباء کی طرف سے قریش اور سادات سے ہر گز نہ ہو جیسا کہ سلسلہ موسویہ کا آخری خلیفہ اگر چہ والدہ کی طرف سے وہ کچھ ہو لیکن باپ کی طرف سے جو کہ منشاء نسب ہوتا ہے ہر گز اسرائیلی نہ تھا اور اگر ان سب امور کو ہم پس پشت ڈال دیں تو پھر یہ بھی تو حدیث ہے کہ سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ “ ارشادات نور، جلد اول صفحه (۲۸۹،۲۸۸) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”اصل بات یہ ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو کشفی طور پر دکھایا گیا تھا کہ خلیفے قریش سے ہوں گے ، خواہ حقیقی طور پر یا بروزی طور پر۔جیسے دجال کا بروز بتایا۔اسی طرح پر سلاطین مغلیہ وغیرہ بروزی طور پر قریش ہی ہیں۔خدا نے جو عہدہ ان کو دیا وہ اس کے متکفل رہے۔جب تک خدا نے چاہا وہ سلطنت کرتے رہے۔جب تک کوئی بروز کے مسئلے کو نہیں سمجھتا، اس پیش گوئی کی حقیقت کو سمجھ نہیں سکتا اور آخر اُس کو اس پیشگوئی کو جھٹلانا پڑے گا۔جب اصل قریش میں استعداد نہ رہی اور اس قوم میں وہ استعداد پائی گئی، تو خدا نے وہ عہدہ اس کے حوالے کیا۔یہی وجہ ہے کہ طبعاً سلطان روم کی متابعت اختیار کی اور سچی محبت سے اس کو قبول کیا۔یہ تصنع اور بناوٹ سے نہیں ہوا، بلکہ دلوں نے یہ فتویٰ دیا کہ وہ خادم حرمین الشریفین ہے۔اظلالی امور ہمیشہ ہوتے ہیں اور ہوں گے۔یہ معنی ہیں الائمةُ مِنَ الْقُریش کے۔“ بَاب : أَجْرُ مَنْ قَضَى بِالْحِكْمَةِ اس شخص کا ثواب جو درست فیصلہ کرے ( ملفوظات جلد اوّل صفحه (۳۰۰) لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَمَنْ لَمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو اس شریعت کے اللهُ فَأُولَبِكَ هُمُ الفيسقُونَ (المائدة : ٤٨) مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کی تو یہی وہ لوگ ہیں جو فاسق ہیں۔٧١٤١: حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ۷۱۴۱ شہاب بن عباد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ ابراہیم بن حمید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل