صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 364
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام تَابَعَهُ نُعَيْمٌ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ شعیب کی طرح) نعیم نے بھی اس حدیث کو مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ این مبارک سے روایت کیا۔انہوں نے معمر سے معمر نے زہری سے، زہری نے محمد بن جبیر جُبَيْرٍ۔طرفه : ۳۵۰۰۔سے روایت کی۔٧١٤٠ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا ۷۱۴۰: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ عاصم بن محمد نے ہمیں بتایا۔میں نے اپنے باپ قَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله سے سنا۔وہ کہتے تھے۔حضرت ابن عمر نے کہا، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ امارت قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمْ اثْنَانِ۔قریش میں ہی رہے گی جب تک کہ ان میں دو طرفه : ٣٥٠١۔باقی رہیں گے۔تشریح : الْأُمَرَاءُ مِن قُرَيْش: امر قریش سے ہوں گے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف تو ائمہ اثنا عشر کی قریش سے ہونے کی خبر دی ہے اور ایک طرف فرمایا ہے کہ ہر ایک صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ ایک مجدد مبعوث فرمائے گا جو کہ دین کی تجدید کرے گا۔پس اگر انسان تھوڑی سی غور کرے تو وہ ائمہ اثنا عشر کا پتہ ان دو حدیث سے لگا سکتا ہے کیونکہ اب چودھویں صدی ہے۔پہلی صدی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوئی اور بموجب تشابه سلسلہ محمدیہ اور سلسلہ موسویہ چودھویں مسیح موعود کی ہوئی اور باراں صدیوں کے بارہ امام مجد د ہوئے اور وہ عموماً قریش ہی تھے نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر گز یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد کل امام اثنا عشر ہوں گے اور وہ قریش ہوں گے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ قریش سے اثنا عشر ہوں گے اور ان کی نفی یہاں سے ہر گز نہیں مفہوم ہوتی اور یہ حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ يُسْلَبُ الْمُلْكُ مِنْ قُرَيْشٍ بلکہ تشابه سلسلہ موسویہ سے چاہتا ہے کہ آخری خلیفہ امہات کی طرف اگرچہ قریش یا خصوصاً