صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 366
صحيح البخاری جلد ۱۶ ٩٣ - كتاب الأحكام إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بن ابى خالد) سے، اسماعیل نے قیس (بن ابی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حازم) سے ، قیس نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ سے روایت کی۔انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک نہ ہونا چاہیئے مگر دو فِي الْحَقِّ وَآخَرُ آتَاهُ اللهُ حِكْمَةَ آدمیوں کے متعلق۔ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو پھر اللہ نے اس کو حق میں خرچ کرنے کی توفیق دی اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے دانشمندی دی ہو اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا۔أطرافه : ٧٣، ١٤٠٩، ٧٣١٦۔ريح : أَجْرُ مَنْ قَضَى بِالْحِكْمَةِ : اس شخص کا ثواب جو درست فیصلہ کرے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”جب انسان غیرقان مجید کی سچی متابعت اختیار کرتا ہے اور اپنے نفس کو اس کے امر و نہی کے بکلی حوالہ کر دیتا ہے اور کامل محبت اور اخلاص سے اس کی ہدایتوں میں غور کرتا ہے اور کوئی اعراض صوری یا معنوی باقی نہیں رہتا۔تب اس کی نظر اور فکر کو حضرت فیاض مطلق کی طرف سے ایک نور عطا کیا جاتا ہے اور ایک لطیف عقل اس کو بخشی جاتی ہے جس سے عجیب غریب لطائف اور نکات علم الہی کے جو کلام الہی میں پوشیدہ ہیں اس پر کھلتے ہیں اور ابر نیساں کے رنگ میں معارف دقیقہ اس کے دل پر برستے ہیں۔وہی معارف دقیقہ ہیں جن کو فرقان مجید میں حکمت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے : يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أوتِي خَيْرًا كَثِيرًا (البقرة: ۲۷۰) یعنی خدا جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی ہے یعنی حکمت خیر کثیر پر مشتمل ہے اور جس نے حکمت پائی اس نے خیر کثیر کو پالیا۔سو یہ علوم و معارف جو دوسرے لفظوں میں حکمت کے نام سے موسوم ہیں یہ خیر کثیر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بحر محیط کے رنگ میں ہیں جو کلام الہی کے تابعین کو دیئے جاتے ہیں اور ان کے فکر اور نظر میں ایک ایسی برکت