صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 363
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۶۳ ۹۳ - كتاب الأحكام بَاب ۲ : الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ امیر قریش سے ہوں گے ۷۱۳۹: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۱۳۹: ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ مُحَمَّدُ ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی۔ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَلَغَ اُنہوں نے کہا: محمد بن جبیر بن مطعم کہتے تھے کہ مُعَاوِيَةَ وَهُمْ عِنْدَهُ فِي وَقْدٍ مِنْ حضرت معاویہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت عبد اللہ بن قُرَيْشٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ عمرو بیان کرتے ہیں کہ عنقریب قحطان سے ایک أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ بادشاہ ہوگا اور ابن جبیر اس وقت قریش کے فَغَضِبَ فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا نمائندوں کے ساتھ حضرت معاویہؓ کے پاس تھے رم یہ سن کر حضرت معاویہ رنجیدہ ہوئے اور کھڑے هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي ہو گئے اور انہوں نے الله ں نے اللہ کی وہ تعریف کی جس کا أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ وہ اہل ہے۔ پھر اُنہوں نے کہا: اتا بعد مجھے یہ خبر لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَا تُوثَرُ عَنْ پہنچی ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں اور نہ ہی وہ رسول اللہ وَأُولَئِكَ جُهَّالُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ جو تم میں سے بڑے ہی جاہل ہیں۔ اس لئے تم اپنے رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ کو ایسے جھوٹے خیالات سے بچائے رکھو جو يَقُولُ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا ان لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں جو ایسے خیالات يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللهُ فِي النَّارِ رکھتے ہیں۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ۔ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ یہ امارت قریش میں رہے گی جب تک کہ وہ دین کو قائم رکھیں گے، جو کوئی بھی اُن سے دشمنی کرے گا تو ضرور ہی اللہ اس کو اس کے منہ کے بل آگ میں اوندھا گرائے گا۔