صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 362 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 362

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام کہلا سکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے۔اور اگر اختلاف رائے اور پھوٹ رہے تو پھر سمجھ لو کہ یہ ادبار اور تنزل کے نشانات ہیں۔مسلمانوں کے ضعف اور تنزل کے منجملہ دیگر اسباب کے باہم اختلاف اور اندرونی تنازعات بھی ہیں۔پس اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔اس میں یہی تو ستر ہے۔اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ بڑے بڑے اہل الرائے تھے۔خدا نے اُن کی بناوٹ ایسی ہی رکھی تھی وہ اصول سیاست سے بھی خوب واقف تھے کیونکہ آخر جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ کرام خلیفہ ہوئے اور ان میں سلطنت آئی تو انہوں نے جس خوبی اور انتظام کے ساتھ سلطنت کے بارِ گراں کو سنبھالا ہے اس سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ ان میں اہل الرائے ہونے کی کیسی قابلیت تھی۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور ان کا یہ حال تھا کہ جہاں آپ نے کچھ فرمایا اپنی تمام راؤں اور دانشوں کو اس کے سامنے حقیر سمجھا اور جو کچھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی کو واجب العمل قرار دیا۔“ الحکم، ۱۰ / فروری ۱۹۰۱ء، صفحه ۲،۱) آپ نے فرمایا: قرآن شریف میں حکم ہے اَطِیعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (النساء : ۲۰) یہاں اُولی الامر کی اطاعت کا حکم صاف طور پر موجود ہے اور اگر کوئی شخص کہے کہ منكم میں گورنمنٹ داخل نہیں، تو یہ اُس کی صریح غلطی ہے۔گورنمنٹ جو حکم شریعت کے مطابق دیتی ہے، وہ اسے منگھ میں داخل کرتا ہے۔مثلاً جو شخص ہماری مخالفت نہیں کرتا وہ ہم میں داخل ہے۔اشارۃ النص کے طور پر قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہیے اور اس کے حکم مان لینے چاہئیں۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۷۱)