صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 361 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 361

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام نظام يح : أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ : اللہ کی فرمانبرداری کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور اُن کی جو تم میں سے حاکم ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” یہ سنت اللہ ہے کہ وہ انسانوں کو متفرق طور پر چھوڑنا نہیں چاہتا بلکہ جیسا کہ اس نے شمسی میں بہت سے ستاروں کو داخل کر کے سورج کو اس نظام کی بادشاہی بخشی ہے ایسا ہی وہ عام مومنوں کو ستاروں کی طرح حسب مراتب روشنی بخش کر امام الزمان کو ان کا سورج قرار دیتا ہے اور یہ سنت الہی یہاں تک اس کی آفرینش میں پائی جاتی ہے کہ شہد کی مکھیوں میں بھی یہ نظام موجود ہے کہ ان میں بھی ایک امام ہوتا ہے جو یعسوب کہلاتا ہے۔اور جسمانی سلطنت میں بھی یہی خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ ایک قوم میں ایک امیر اور بادشاہ ہو۔اور خدا کی لعنت ان لوگوں پر ہے جو تفرقہ پسند کرتے ہیں اور ایک امیر کے تحت حکم نہیں چلتے۔حالانکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے: اطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمُ (النساء: ٢٠) أولى الأمر مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے۔اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔“ (ضرورۃ الامام ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۹۳) نیز آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول اور ملوک کی اطاعت اختیار کرو۔اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔بدوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحد وں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیسا فضل تھا اور وہ کس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں فنا شدہ قوم تھی۔یہ سچی بات ہے کہ کوئی قوم، قوم نہیں