صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 359 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 359

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۵۹ ۹۳ - كتاب الأحكام بسم الله الرحمن الرحيم ۹۳ - كِتَابُ الأَحكام فیصلوں کے متعلق احکام شریعت 000000 احکام لفظ حکم کی جمع ہے۔ امام راغب بیان کرتے ہیں کہ حکم کے معنی ہیں اصلاح کی خاطر روکنا اور منع کرنا۔ المفردات فی غریب القرآن، حكم ) اصمعی نے لفظ حکومت کو اس کی ذیل میں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے معنی ہیں کسی شخص کو ظلم سے روکنا۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے والے کو حاکم کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ظالم کو ظلم سے روکتا ہے۔ اہل لغت جانور کی لگام کو حَكَمَةُ الدابة کہتے ہیں، اس لیے کہ وہ اُسے سرکش بنے سے روکتی ہے۔ (تاج العروس، حکم) ابن فارس کہتے ہیں کہ لفظ حکمے کا بھی یہی مفہوم ہے کیونکہ وہ جہالت سے منع کرتی ہے۔ (مقاييس اللغة، حكم ) علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ کتاب الاحکام سے مراد حکم کے آداب و شرائط کا بیان کرنا ہے۔ ان کے نزدیک حکم یعنی روکنا کسی چیز کو مضبوط ومستحکم بنانا اور عیب سے بچانا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکم شرعی سے مراد اللہ تعالٰی کا وہ حکم ہے جو مکلفین (یعنی انسانوں) کو ان کے اعمال کے متعلق دیا گیا ہو، خواہ وہ وجوبی ہو یا اختیاری۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ لفظ حاکم خلیفہ اور قاضی کے لیے بھی آتا ہے اور امام بخاری نے اس کتاب میں ان دونوں سے متعلق امور کا ذکر کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۱۳۸) باب ۱ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمُ (النساء: ٦٠) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اللہ کی فرمانبرداری کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور اُن کی جو تم میں سے حاکم ہیں ۷۱۳۷ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ ۷۱۳۷: عبد ان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي (بن مبارک ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ یونس نے زہری سے روایت کی۔ ابوسلمہ بن أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ أَنَّ عبد الرحمن نے مجھے بتایا اُنہوں نے حضرت ابو ہریرہ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ