صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 357
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۵۷ ۹۲ - كتاب الفتن اپنے انتہائی خواص ظاہر کر دیئے اور بموجب آیت اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ الْقَالَهَا اپنے اعلیٰ سے اعلیٰ جو ہر کو ظاہر کر دیا۔اور یہ امر استدارت زمانہ پر ایک دلیل ہے۔یعنی جب یا جوج ماجوج کی کثرت ہو گی تو سمجھا جائے گا کہ زمانہ نے اپنا پورا دائرہ دکھلا دیا اور پورے دائرہ کو رجعت بروزی لازم ہے۔اور یا جوج ماجوج پر ارضی کمال کا ختم ہونا اس بات پر دلیل ہے کہ گویا آدم کی خلقت الف سے شروع ہو کر جو آدم کے لفظ کے حرفوں میں سے پہلا حرف ہے اس یا کے حرف پر ختم ہو گئی کہ جو یا جوج کے لفظ کے سر پر آتا ہے جو حروف کے سلسلہ کا آخری حرف ہے۔گویا اس طرح پر یہ سلسلہ الف سے شروع ہو کر اور پھر حرف یا پر ختم ہو کر اپنے طبعی کمال کو پہنچ گیا۔خلاصہ کلام یہ کہ آیت ممدوحہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ بروزی رجوع جو استدارت دائرہ خلقت بنی آدم کے لئے ضروری ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ یا جوج ماجوج کا ظہور اور خروج اقویٰ اور اتم طور پر ہو جائے اور ان کے ساتھ کسی غیر کو طاقت مقابلہ نہ رہے کیونکہ دائرہ کے کمال کو یہ لازم ہے کہ اخرجت الْأَرْضُ القَالها کا مفہوم کامل طور پر پورا ہو جائے اور تمام ارضی قوتوں کا ظہور اور پروز ہو جائے اور یا جوج ماجوج کا وجود اس بات پر دلیل کامل ہے کہ جو کچھ ارضی قوتیں اور طاقتیں انسان کے وجود میں ودیعت ہیں وہ سب ظہور میں آگئی ہیں کیونکہ اس قوم کی فطرتی اینٹ ارضی کمالات کے پڑا وہ میں ایسے طور سے پختہ ہوئی ہے کہ اس میں کسی کو بھی کلام نہیں۔اسی ستر کی وجہ سے خدا نے ان کا نام یا جوج ماجوج رکھا کیونکہ ان کی فطرت کی مٹی ترقی کرتے کرتے کانی جواہرات کی طرح آتشی مادہ کی پوری وارث ہوگئی اور ظاہر ہے کہ مٹی کی ترقیات آخر جو اہرات اور فلذات معدنی پر ختم ہو جاتی ہیں۔تب معمولی مٹی کی نسبت اُن جواہرات اور فلذات میں بہت سا مادہ آگ کا آجاتا ہے گویا مٹی کا انتہائی کمال شے کمال یافتہ کو آگ کے قریب لے آتا ہے اور پھر جنسیت کی کشش کی وجہ سے دوسرے آتشی لوازم اور کمالات بھی اسی مخلوق کو دیئے جاتے ہیں۔غرض بنی آدم کا یہ آخری کمال ہے کہ بہت سا آتشی حصہ اُن میں داخل ہو جائے اور یہ کمال یا جوج ماجوج