صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 356
صحيح البخاری جلد ۱۹ ۳۵۶ ۹۲ - كتاب الفتن اُن کو حاصل ہو جائے گی اور ہر ایک قوم پر وہ فتحیاب ہو جائیں گے۔دوسرے اس نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ آگ کے کاموں میں ماہر ہوں گے یعنی آگ کے ذریعہ سے اُن کی لڑائیاں ہوں گی اور آگ کے ذریعہ سے اُن کے انجن چلیں گے اور آگ سے کام لینے میں وہ بڑی مہارت رکھیں گے اسی وجہ سے اُن کا نام یاجوج ماجوج ہے کیونکہ ابھیج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں اور شیطان کے وجود کی بناوٹ بھی آگ سے ہے جیسا کہ آیت خَلَقْتَنِی مِنْ نَّارٍ سے ظاہر ہے۔اس لئے قوم یا جوج ماجوج سے اس کو ایک فطرتی مناسبت ہے اسی وجہ سے یہی قوم اس کے اسم اعظم کی تجلی کے لئے اور اس کا مظہر اتم بننے کے لئے موزوں ہے۔“ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷، صفحہ ۲۷۷،۲۷۶) آپ علیہ السلام مزید فرماتے ہیں یا جوج ماجوج سے وہ قوم مراد ہے جن کو پورے طور پر ارضی قوی ملیں گے اور ان پر ارضی قومی کی ترقیات کا دائرہ ختم ہو جائے گا۔یاجوج ماجوج کا لفظ ایج سے لیا گیا ہے جو شعلہ نار کو کہتے ہیں۔پس یہ وجہ تسمیہ ایک تو بیرونی لوازم کے لحاظ سے ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ یاجوج ماجوج کے لئے آگ مسخر کی جائے گی اور وہ اپنے دنیوی تمدن میں آگ سے بہت کام لیں گے۔اُن کے بڑی اور بحری سفر آگ کے ذریعہ سے ہوں گے۔ان کی لڑائیاں بھی آگ کے ذریعہ سے ہوں گی۔ان کے تمام کاروبار کے انجن آگ کی مدد سے چلیں گے۔دوسری وجہ تسمیہ لفظ یا جوج ماجوج کے اندرونی خواص کے لحاظ سے ہے اور وہ یہ ہے کہ اُن کی سرشت میں آتشی مادہ زیادہ ہو گا۔وہ قومیں بہت تکبر کریں گی اور اپنی تیزی اور چستی اور چالا کی میں آتشی خواص دکھلائیں گی اور جس طرح مٹی جب اپنے کمال تام کو پہنچتی ہے تو وہ حصہ مٹی کا کافی جو ہر بن جاتا ہے جس میں آتشی مادہ زیادہ ہو جاتا ہے۔جیسے سونا چاندی اور دیگر جواہرات۔پس اس جگہ قرآنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ یا جوج ماجوج کی سرشت میں ارضی جو ہر کا کمال تام ہے جیسا کہ معدنی جواہرات میں اور فلذات میں کمال تام ہوتا ہے۔اور یہ دلیل اس بات پر ہے کہ زمین نے