صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 355
صحيح البخاری جلد ۱۹ ۳۵۵ ۹۲ - كتاب الفتن کے ظہور کی علامت ظاہر کرنے کے لیے یا جوج ماجوج کی قوم ظاہر ہوئی یعنی اس قوم کا ظہور ہو ا جو اپنی تمام مہمات میں ارینج یعنی آگ سے کام لیتی ہے۔اس کی لڑائیاں آگ سے ہیں۔اس کے سفر آگ کے ذریعہ سے ہیں۔ان کی ہزاروں کلیں آگ کے ذریعہ سے چلتی ہیں اس لئے خدا نے اپنی مقدس کتابوں میں اُن کا نام آتشی قوم یعنی یا جوج ماجوج رکھا جو پانیوں کے قریب رہتے اور آگ سے کام لیتے ہیں۔ایام الصلح، روحانی خزائن جلد ۱۴، صفحه ۴۰۰) آپ علیہ السلام مزید فرماتے ہیں مسیح موعود کا یا جوج ماجوج کے وقت میں آنا ضروری ہے۔اور چونکہ اپنی آگ کو کہتے ہیں جس سے یا جوج ماجوج کا لفظ مشتق ہے اس لئے جیسا کہ خدا نے مجھے سمجھایا ہے یا جوج ماجوج وہ قوم ہے جو تمام قوموں سے زیادہ دنیا میں آگ سے کام لینے میں استاد بلکہ اس کام کی موجد ہے۔اور ان ناموں میں یہ اشارہ ہے کہ اُن کے جہاز ، اُن کی ریلیں، اُن کی کلیں آگ کے ذریعہ سے چلیں گی اور اُن کی لڑائیاں آگ کے ساتھ ہوں گی اور وہ آگ سے خدمت لینے کے فن میں تمام دنیا کی قوموں سے فائق ہوں گے اور اسی وجہ سے وہ یا جوج ماجوج کہلائیں گے۔سو وہ یوروپ کی قومیں ہیں جو آگ کے فنون میں ایسے ماہر اور چابک اور یکتائے روزگار ہیں کہ کچھ بھی ضرور نہیں کہ اس میں زیادہ بیان کیا جائے۔پہلی کتابوں میں بھی جو بنی اسرائیل کے نبیوں کو دی گئیں یورپ کے لوگوں کو ہی یا جوج ماجوج ٹھہرایا ہے بلکہ ماسکو کا نام بھی لکھا ہے جو قدیم پایۂ تخت روس تھا۔“ ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴، صفحه ۴۲۴) آپ علیہ السلام مزید فرماتے ہیں ” دوسری قسم کی مخلوق جو مسیح موعود کی نشانی ہے یاجوج ماجوج کا ظاہر ہونا ہے۔توریت میں ممالک مغربیہ کی بعض قوموں کو یا جوج ماجوج قرار دیا ہے۔اور ان کا زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ٹھہرایا ہے۔قرآن شریف نے اس قوم کے لئے ایک نشانی یہ لکھی ہے کہ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الأنبياء: ۹۷) یعنی ہر ایک فوقیت ارضی