صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 13
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۱۳ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔زیر باب روایات میں سے پہلی روایت نمبر ۶۹۲۲۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس زندیق لائے گئے تو انہوں نے اُن کو جلا دیا۔یہ خبر حضرت ابن عباس کو پہنچی تو انہوں نے کہا: اگر میں ہوتا تو اُن کو کبھی نہ جلاتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ اللہ کی سزا جیسی کسی کو سزا دو اور میں اُن کو مروا ڈالتا اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنے دین کو تبدیل کر دے اُس کو مار ڈالو۔اس روایت کی کچھ تفصیل دیگر کتب حدیث میں ملتی ہے۔مثلاً ایک روایت میں ہے کہ ان زنادقہ کے پاس کچھ کتابیں تھیں۔ابن ابی شیبہ کی کتاب میں ہے کہ یہ لوگ پوشیدہ طور پر بت پرستی کرتے تھے۔حضرت ابن عباس کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے کہا: میں ہوتا تو جانے نہ دیتا۔البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ کے مطابق ان کو قتل کر دیتا۔مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُون: یہ الفاظ جو حضرت ابن عباس کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کئے گئے ، ان کے متعلق کہیں سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کب اور کس موقع پر فرمائے تھے۔حضرت علی " جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت ابن عباس سے زیادہ وقت رہنے کا موقع ملا، خلیفتہ الرسول تھے۔انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کا علم نہیں تھا مگر حضرت ابن عباس جن کی عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت دس سال تھی، انہیں اس فیصلہ کا علم تھا۔پھر سب لوگوں کے مشورہ کے خلاف حضرت علی نے یہ قدم اُٹھایا جو خلاف قرآن اور خلاف سنت رسول تھا، حضرت علی کی شان سے بعید ہے۔یہ الفاظ اپنے مفہوم کا غلط ہو نا خود ثابت کر رہے ہیں۔من بدل دینہ جو بھی اپنا دین بدلے اُسے قتل کر دو۔ا عیسائی اپنا دین بدل کر یہودی ہو جائے یا یہودی اپنا دین بدل کر عیسائی ہو جائے یا کوئی عیسائی یا یہودی اپنا دین بدل کر مسلمان ہو جائے تو اسے قتل کر دیا جائے۔کوئی باہوش انسان ان معنوں کو تسلیم نہیں کرے گا۔ایسی خلاف عقل بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیسے منسوب ہو سکتی ہے۔اس پر بعض کہتے ہیں: إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الْإِسْلَامُ (آل عمران: ۲۰) کے مطابق اصل دین اسلام ہی ہے۔ان کے بقول من بدل دینہ سے دین اسلام مراد ہے مگر یہاں من بدل دینا نہیں کہا گیا بلکہ دینہ کے الفاظ ہیں کہ اپنا دین۔اس لئے یہ دلیل بھی درست نہیں کہ یہاں دین سے مراد دین اسلام ہے۔ڈا کی ضمیر ہر شخص کے اپنے دین کی طرف راجع ہے۔یہ الفاظ اپنی ذات میں محل نظر اور انتہائی مشکوک ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہر گز نہیں ہو سکتے۔حضرت خلیفہ المسح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”پھر جب ہم روایت کے الفاظ کی چھان بین کرتے ہیں تو اس کو کئی لحاظ سے غلط پاتے ہیں۔(1) اس میں شک نہیں کہ حضرت ابن عباس کا اپنا ایک مقام ہے مگر حضرت علی کے